قذافی کی منجمد رقوم بیلجیم میں سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیم کی حکومت نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ اس کے بنکوں میں لیبیا کے سابق مرد آہن مقتول کرنل معمر قذافی کے منجمد کردہ اثاثوں کا منافع بیلجیم میں مختلف سرکاری مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیلجین حکومت کی طرف سے جاری ایک مکتوب میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حکومت قذافی کی منجمد کی گئی رقوم کا منافع لیبیا میں کام کرنے والی بیلجیم کی تنظیموں، اداروں اور کمپنیوں کے قرضوں کی ادائیگی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ بیلجین کے اس اعتراف نے اس کے بنکوں میں موجود اصل رقوم اور ان کے استعمال کے حوالے سے نئے شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اگست 2012ء کو بیلجین وزیر خارجہ ڈیڈیہ رینڈرز نے اپنے لیبی ہم منصب عاشور بن خیال کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ بیلجیم کے بنکوں میں کرنل قذافی کے دور میں کتنی رقم جمع کرائی گئی ہے اور ان پر اب تک کتنا منافع جمع ہوچکا ہے۔ اس مکتوب کے ذریعے انہوں‌ نے بتایا کہ یورپی یونین کے پابندیوں کے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس رقم سے فایدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

دو روز قبل لیک ہونے والے اس مکتوب میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کے دور میں کام کرنے والی بیلجین کمپنیوں کو معمر قذافی کے خلاف بغاوت کے بعد مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی مالی مشکلات میں ان کی مدد کے لیے 8 کمپنیوں‌ کو تقریبا 3 کروڑ یورو کی رقم ادا کی گئی تھی۔

اس مکتوب کا انکشاف بیلجین ماہر قانون لوران ارنائوٹس نے کیا ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قذافی دور کی منجمد کی گئی اصل رقم بھی بعد میں قائم ہونے والی لیبی حکومت کو جاری کی گئی تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا اصل رقم سے بھی لیبیا میں خسارے سے دوچار کمپنیوں کو مالی مدد فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں