.

ایران میں اقتصادی بحران ، صدر حسن روحانی سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کی تقریبات منائی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں منعقدہ ایک اجتماع میں سفید دستاریں اوڑھے شیعہ علماء نے صدر حسن روحانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھیں مخاطب ہو کر کہا ہے کہ ’’ آپ افراطِ زر کا سبب ہیں اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آپ بہار تک نہیں رہیں گے‘‘۔

صدر حسن روحانی کو امریکا کی سخت پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد سے سیاسی اور سماجی حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے ۔ ایرانی شہری انھیں خود کو درپیش معاشی مسائل کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں۔ ایران میں گذشتہ مہینوں کے دوران میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کئی ہفتے تک ملکی کرنسی کی قدر میں کمی ، مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف پُرتشدد مظاہرے کیے تھے۔

ایرانی اب برملا یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ’’ ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روک لگا دے‘‘۔صدر حسن روحانی کی قیادت میں ایران نے جولائی 2015ء میں امریکا سمیت چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتا طے کیا تھا ۔اس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو منجمد کردیا تھا اور اس کے بدلے میں امریکا نے ایران کے خلاف عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کو جزوی یا مکمل طور پر ختم کردیا تھا۔

گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اس سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا ا علان کیا تھا اور نومبر سے ایران کے خلاف کڑی اقتصادی پابندیاں بحال کردی تھیں لیکن ان کے اس فیصلے سے قبل بھی ایران پر عاید مختلف النوع اقتصادی پابندیوں کے ثمرات عام ایرانیوں تک منتقل نہیں ہوئے تھے۔

امریکی صدر کے فیصلے کے بعد ایرانی ریال کی قدر مسلسل گرتی چلی گئی ہے اور اس وقت ایک ڈالر ایک لاکھ 33 ہزار ایرانی ریال میں آرہا ہے۔جوہری سمجھوتے کے وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 32 ہزار ریال تھی۔ایرانی سخت گیر سوشل میڈیا پر کھانے پینے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی فہرستیں جاری کرتے رہتے ہیں۔ان کے مطابق لوبیا، چاول اور ٹماٹر کی چٹنی وغیرہ کی قیمت 238 فی صد تک بڑھ چکی ہے۔

واضح رہے کہ حسن روحانی کے پیش رو صدور کو بھی اپنی دوسری مدتِ صدارت میں مختلف اقتصادی اور سیاسی مسائل کا سامنا رہا ہے جن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی رہی ہے۔تاہم انھیں موجودہ حالات کی طرح کے اقتصادی دباؤ کا سامنا نہیں ہوا تھا اور بالخصوص انھیں ڈونلڈ ٹرمپ ایسے امریکی صدر سے بھی پالا نہیں پڑا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے جس سے صدر حسن روحانی مزید کم زور ہوئے ہیں اور ان کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

دریں اثناء ایرانی پارلیمان کے نو سخت گیر ارکان نے حسن روحانی کو بہ طور صدر نااہل قرار دلوانے کے لیے ایک تحریک پیش کی ہے۔اگر 290 ارکان پر مشتمل پارلیمان اس کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیتی ہے تو صدر روحانی کو برطرفی کا سامنا ہوسکتا ہے۔اس کی ایک مثال بھی موجود ہے۔1981ء میں پارلیمان نے ملک کے لبرل صدر ابو الحسن بنی صدر کو صدر کے عہدے کا نا اہل قرار دے دیا تھا ۔اس کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں صدارت کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔