.

سوڈانی صدر عمر البشیر نے مصطفیٰ یوسف کو نیا وزیر خزانہ مقرر کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے حکومتی اور سرکاری عہدوں پر نئے تقرر اور تبادلوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔انھوں نے اتوار کے روز وزیر خزانہ معتز موسیٰ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ مصطفیٰ یوسف کا ملک کا نیاوزیر خزانہ مقرر کیا ہے۔

معتز موسیٰ سوڈان کی معزول حکومت میں وزیراعظم تھے اور وزارت خزانہ کا قلم دان بھی انھی کے پاس تھا مگر اب دو روز میں انھیں ان دونوں عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ صدر عمر البشیر نے جمعہ کو ملک بھر میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور کابینہ کو تحلیل کرکے اس کی جگہ نئی نگران انتظامیہ مقرر کی ہے۔تاہم انھوں نے دفاع ، خارجہ امور اور انصاف کے وزراء کو برقرار رکھا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ریاست جزیرہ کے گورنر محمد طاہر عائلہ کو ملک کا نیا وزیراعظم نامزد کیا تھا۔ محمد طاہر عائلہ سوڈانی صدر کے دیرینہ معتمد ساتھی ہیں۔ انھوں نے نومبر 2017ء میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر طاہر عائلہ 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار بنتے ہیں تو وہ ان کی حمایت کریں گے۔

سوڈانی صدر نے گذشتہ روز وزیر دفاع عواد محمد احمد ابن عوف کو ملک کا اوّل نائب صدر مقرر کیا تھا ۔وزارتِ دفاع کا قلم دان بھی ان کے پاس رہے گا۔ وہ سوڈان کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ہیں۔

سوڈانی صدر نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چلتا کیا تھا اور ریاستی گورنروں کی جگہ فوجی عہدے داروں کو منتظم مقرر کیا ہے۔انھوں نے پارلیمان سے بھی کہا ہے کہ وہ آئینی ترامیم پر بحث اور رائے شماری کو موخر کردے۔اگر پارلیمان یہ ترامیم منظور کر لیتی ہے تو 2020ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں وہ ایک اور مدت کے لیے امیدوار بن سکیں گے۔