.

عالمی برادری ایران کی مداخلتوں کے خلاف متحدہ مؤقف اختیار کرے :شاہ سلمان بن عبدالعزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایران کو مسلح ملیشیاؤں کی حمایت اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے روکنے اور جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام سے باز رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر متحدہ اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہ اتوار کو مصر کے ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ میں عرب لیگ اور یورپی یونین کے پہلے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں اور خطے میں دوسری ملیشیاؤں کی حمایت کررہا ہے۔اس نے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں ننگی مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،اس کو اس جارحانہ طرز عمل سے باز رکھنے کے لیے متحدہ بین الاقوامی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن میں جاری بحران کا خلیج اقدام ، یمن قومی مکالمے کی سفارشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کے تحت حل چاہتا ہے۔

شاہ سلمان نے کہا:’’ سعودی مملکت نے (اقوا مِ متحدہ کے زیر اہتمام) سویڈن میں منعقدہ مذاکرات کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی ہے ۔وہ ان مذاکرات کے نتیجے میں طے شدہ سمجھوتوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں کو یمن کی موجودہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیتا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی تنازع کو عرب ممالک کی خارجہ پالیسی میں ترجیح حاصل ہے۔انھوں نے گذشتہ سال سعودی عرب کے شہر ظہران میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کا حوالہ دیا جس کو ’’ یروشلیم سمٹ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔انھوں نے فلسطینی عوام کے تمام جائز حقوق کی بحالی کے لیے سعودی عرب کے پختہ عزم کا ا عادہ کیا۔

خادم الحرمین الشریفین نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ سعودی عرب کو بہت سے دوسرے ممالک کی طرح دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس نے اس کی تمام سطحوں پر بیخ کنی کے لیے بہت سی بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کی ہے اور انھیں آگے بڑھایا ہے۔ اس ضمن میں دہشت گرد گروپوں کے مالی ذرائع کے سوتے خشک کرنے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں ۔انھوں نے دہشت گردی کے لیے رقوم کی ترسیل اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے مہاجرین اور تارکینِ وطن کے بحران کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے نتیجے میں لوگوں کی دربدری سے انسانی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس سربراہ اجلاس سے ان کے حل کی تلاش میں مدد ملے گی۔

انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ سعودی عرب نے دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک کو انسانی امداد، خیرات اور مختلف شعبوں کے لیے ترقیاتی فنڈز کی شکل میں گذشتہ برسوں کے دوران میں 35 ارب ڈالرز مہیا کیے ہیں۔