الجزائر:عبدالعزیز بوتفلیقہ کے پانچویں مرتبہ صدارتی امیدوار بننے کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

الجزائر میں علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے پانچویں مدت صدارتِ کے لیے امیدوار بننے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے استعمال کیے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین جمعہ سے دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ 81 سالہ صدر بوتفلیقہ سے بہ طور صدارتی امیدوار دستبردار ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک احتجاجی ریلی میں مظاہرین یہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’’ عوام بوتفلیقہ کو نہیں چاہتے ‘‘۔

حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز بوتفلیقہ کے طبی طور پر تن درست ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ان کے نام پر ان کے مشیر حضرات حکومت چلا رہے ہیں۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر بوتفلیقہ کی علالت کے باوجود اقتدار پر مضبوط گرفت برقرار ہے اور اہم فیصلے وہی کرتے ہیں۔

حزبِ اختلاف کا ایک گروپ موطنہ حکومت کے خلاف اس تحریک میں پیش پیش ہے اور وہی مختلف شہروں میں احتجاجی ریلوں کا اہتمام کررہا ہے ۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے وابستہ ایک صحافی نے بتایا ہے کہ پولیس نے دارالحکومت میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

الجزائر کے سرکاری میڈیا کو حزب اختلاف کے ان مظاہرو ں کی کوریج سے روک دیا گیا ہے جس پر اس سے وابستہ صحافیوں نے احتجاج کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے مینجروں نے ریلیوں کی خبریں دینے پر پابندی عاید کردی ہے۔سرکاری ریڈیو سے وابستہ صحافیوں نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ ہمارے حکام بالا نے جمعہ 21 فروری کو ایک بڑے احتجاجی مارچ کی کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، اسی سے ہماری ابتر صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔

سرکاری ریڈیو کی ایڈیٹر اور ایک معروف رپورٹر مریم عبدو نے حکام کے رویّے کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی ملازمت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پیشے کے بنیادی قواعد و ضوابط کی بھی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔

الجزائری حکام نے جمعہ کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں اکتالیس افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی ایس نے ہفتے اور اتوار کو کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاع نہیں دی ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر کی حکمراں جماعت جبھ التحرير الوطنی ( ایف ایل این )نے 10 فروری کو علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو 18اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کردیا تھا۔الجزائری صدر دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔

وہ 2013ء میں مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے۔وہ وطن واپسی کے بعد سے کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں۔گذشتہ صدارتی انتخابات میں ان کی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی تھی۔خرابیِ صحت کی بنا پر وہ الجزائر کے دورے پر آنے والے عالمی لیڈرو ں سے ملاقاتیں بھی نہیں کرتے ہیں۔

بوتفلیقہ گذشتہ قریباً بیس سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں اور وہ اب بھی عوام میں مقبول ہیں۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ 71 فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔وہ 2014ء میں چوتھی مرتبہ 81.53 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ فرانس سے الجزائر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں حصہ لینے والے قائدین کی نسل سے رکھتے ہیں ۔الجزائری لیڈروں کی یہی نسل 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے ۔انھوں نے ملک کو نوّے کی عشرے میں خونریز خانہ جنگی سے نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر ڈالنے میں اہم کردار کیا ہے۔ انھوں نے اسلام پسندوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیا تھا جس سے ملک میں بتدریج استحکام آیا تھا اور اسی کی بدولت الجزائر عرب بہاریہ تحریکوں کے مضر اثرات سے محفوظ رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں