.

برطانیہ کا لبنان کی حزب اللہ تحریک پر پابندی لگانے اور دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے لبنان کی شیعہ تحریک حزب اللہ کی تمام شاخوں پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرقِ اوسط میں اس کے تخریبی کردار کے پیش نظر اس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جارہا ہے۔

برطانیہ نے 2001ء اور 2008ء میں حزب اللہ کے بیرونی سکیورٹی یونٹ اور اس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان پر پابندی عاید کر دی تھی۔اب اس نے لبنان کی شیعہ تحریک کی سیاسی شاخ کو بھی دہشت گرد قرار د ینے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ حزب اللہ نے مشرقِ اوسط کی نازک صورت حال میں اپنا تخریبی کردار جاری رکھا ہوا ہے ۔ہم اس کے پہلے سے پابندیوں کا شکار عسکری ونگ اور سیاسی جماعت میں کوئی تمیز نہیں کرسکتے ۔اس لیے میں نے محض اس بنا پر اس گروپ پر مکمل طور پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

حزب اللہ پر برطانیہ کی عاید کردہ اس پابندی کا اطلاق آیندہ جمعہ سے ہوگا لیکن اس کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔اس کے نفاذ کی صورت میں حزب اللہ کے کسی بھی رکن یا اس گروپ کے لیے کوئی فرد کسی طرح کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایک فوجداری جرم کا مرتکب ہوگا اور اس کو دس سال تک جیل کی سزا سنائی جاسکے گی۔

ایران کے حمایت یافتہ اس شیعہ گروپ کو امریکا نے پہلے ہی دہشت گروپ قرار دے رکھا ہے۔اس نے گذشتہ ہفتے اس کے لبنان میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔حزب اللہ کے پارلیمان کے منتخب ارکان نے امریکا کے اس بیان کو لبنان کی خود مختاری کی خلاف قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کو ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے 1982ء میں قائم کیا تھا ۔اس نے 2006ء میں اپنے دیرینہ دشمن اسرائیل کے خلاف ایک خونریز جنگ لڑی تھی ۔لبنان کی تیس ارکان پر مشتمل موجودہ کابینہ میں حزب اللہ کے وزراء کی تعداد تین ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس کو کابینہ میں اتنی نمایندگی دی گئی ہے۔ماضی میں لبنانی کابینہ میں اس کے وزراء کی تعداد دو تک ہی ہوتی تھی۔