.

بچوں کا جنسی استحصال ’انسانی قربانی‘ ایسا فعل ہے: پوپ فرانسیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کو انسانی قربانی کے مشابہ شنیع فعل قرار دیا ہے۔ وہ اتوار کو ویٹی کن میں رومن کیتھولک چرچ کے سرکردہ مذہبی پیشواؤں کے اجلاس کے بعد ہفتہ وار اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے کام نے ہمیں ایک مرتبہ پھر بچوں سے جنسی زیادتی کے مسئلے کی گہرائی اور سنگینی کا احساس دلایا ہے اور وہ یہ کہ تاریخی طور پر تمام ثقافتوں اور معاشروں میں یہ مسئلہ ایک مظہریت کے طور پر موجود رہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں ایک ظالمانہ مذہبی مشق کی یاددہانی کرانا چاہتا ہوں۔ بعض ثقافتوں میں یہ سلسلہ عام رہا ہے کہ بنی نوع انسان کی قربانی دی جاتی رہی ہے اور بالعموم بچوں کو دیوی دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے‘‘۔

پوپ فرانسیس ویٹی کن میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے رومن کیتھولک کے سرکردہ پادریوں کے چار روزہ اجلاس کے بعد گفتگو کررہے تھے۔اس میں انھوں نے جنسی بے راہ روی اور اخلاق باختہ سرگرمیوں میں ملوث پادریوں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ہے۔انھوں نے پادریوں کے بچوں اور ننوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے 114 سینیرپادریوں کو سفارشات مرتب کرنے کی ذمے داری سونپی ہے اور انھیں ایک نقشہ راہ دیا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگر چرچ میں جنسی بدسلوکی کا کوئی سنگین واقعہ رونما ہوتا ہے تو ا س کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔جو پادری بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ، وہ دراصل ’’شیطان کے آلہ کار" ہیں اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکبین کی کوئی بھی وضاحت قابل قبول نہیں ہے‘‘۔

پوپ فرانسیس نے خبردار کیا کہ اپنے روحانی باپووں اور مرشدوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والے کم سن بچوں کی خاموش چیخیں منافقت اور طاقت سے آلودہ قلوب کو بھی ہلا کر رکھ دیں گی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس خاموش اور مایوس چیخ پر یک سوئی سے توجہ دیں اور اس کو قریب سے سنیں‘‘۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں گرجا گھروں میں پادریوں اور دوسرے عیسائی مذہبی پیشواؤں کے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات نے رومن کیتھولک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔حال ہی میں آسٹریلیا، چلّی، جرمنی اور امریکا میں بچوں سے جنسی زیادتی کے نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔

پوپ فرانسیس نے گذشتہ ہفتے کے روز امریکا کے سابق کارڈینل تھیوڈور میکریک کو اغلام بازی کے الزامات میں قصور وار ثابت ہونے پر چلتا کیا تھا ۔ویٹی کن کے حکام نے اپنی تحقیقات کے بعد اس 88 سالہ ضعیف العمر کارڈینل کے خلاف کم سن بچوں اور بالغوں کے جنسی استحصال کے الزامات کو درست قراردیا تھا ۔

وہ رومن کیتھولک چرچ کے پہلے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ( کارڈینل ) ہیں جنھیں امرد پرستی کے جرم میں تمام مذہبی ذمے داریوں سے سبکدوش کردیا گیا ہے اور اب وہ نہ تو اجتماعی دعائیہ تقاریب منعقد کرسکیں گے ، مذہبی پیشوا کا لباس پہن سکیں گے اور نہ انھیں کسی مذہبی خطاب سے پکارا جائے گا۔یہ سزا یافتہ کارڈینل امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں آرچ بشپ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے نیو جرسی میں بھی کئی سال گزارے تھے۔

پوپ فرانسیس نے گرجا گھروں میں پادریوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والے بچوں اور ننوں کی ہوشربا داستانیں منظر عام پر آنے کے بعد مذہبی پیشواؤں کا مذکورہ اجلاس طلب کیا تھا تاکہ چرچ کو درپیش اس سنگین مسئلے سے نمٹا جاسکے۔

انھوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ چھوٹے بڑے گرجا گھروں میں مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کے ہاتھوں بچوں اور ننوں کے جنسی استحصال کا سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے مگر رومن کیتھولک گرجا گھروں کی انتظامیہ اپنے مذہبی قائدین کی بچوں کے جنسی استحصال کی سرگرمیوں او ر اغلام بازی کے واقعات کی پردہ پوشی کرتی چلی آ رہی ہے۔

جنسی بے راہ روی کے اس اسکینڈل سے خود پوپ فرانسیس کی مذہبی پیشوائیت کے لیے بھی خطرات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔بالخصوص امریکی کارڈینل میکریک کے اسکینڈل نے چرچ کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے کیونکہ گرجا گھروں کے حلقوں میں ان کی امرد پرستی کوئی سربستہ راز نہیں رہی تھی اور وہ گرجا گھروں میں زیر تربیت امردو ں کے ساتھ سوتے رہے تھے۔

امریکی چرچ نے گذشتہ سال انھیں 1970ء کے عشرے میں ایک کم سن لڑکے سے جنسی مراسم کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا۔پوپ فرانسیس نے ان تحقیقات کے منظرعام پر آنے کے بعد چرچ کے وقار کو دھبہ لگانے والے ان صاحب کو جولائی 2018ء میں کارڈینل کے منصب سے ہٹا دیا تھا اور اب ان کی نظرثانی کی اپیل بھی مسترد کردی ہے۔

ویٹی کن کے پریس دفتر کے مطابق انھیں مذہبی احکام کی خلاف ورزی اور اپنی مذہبی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب قصور وار قراردیا گیا تھا۔انھوں نے کیتھولک عیسائی فرقے کے ناجائز جنسی تعلقات کی ممانعت کرنے والے چھے مذہبی احکام خلاف ورزی کی تھی ۔