.

نائیجیریا : عام انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران میں تشدد کے واقعات، 39 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم اکثریتی افریقی ملک نائیجیریا میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران میں تشدد کے واقعات میں انتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر محمد بخاری دوسری مدت کے لیے امیدوار ہیں۔

نائیجیریا میں ان انتخابات کی نگرانی کرنے والی ستر سے زیادہ تنظیموں پر مشتمل گروپ ’’سیچوایشن روم ‘‘نے سوموار کو ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں گذشتہ دو روز میں ہوئی ہیں ۔اس گروپ کے آٹھ ہزار سے زیادہ مبصرین نائیجیریا میں انتخابات کی نگرانی کے لیے برسرزمین موجود تھے ۔ اس نے ہفتے کے روز پولنگ کے دوران میں تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد سولہ بتائی تھی۔اس نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

اس گروپ کی اطلاع کے مطابق نائیجیریا کی جنوبی ریاست ریورس میں تشدد کے واقعات میں سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اس سے مغرب میں واقع ریاست بیلسہ میں چار اور اس سے متصل واقع ریاست ڈیلٹا میں تشدد کے واقعات میں دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔باقی سترہ ہلاکتیں ملک کی آٹھ دوسری ریاستوں میں ہوئی ہیں۔

سیچوایشن روم کے کنوینر کلیمنٹ نوانکو نے تشدد کے ان واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے گروپ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کل ایک لاکھ بیس ہزار پولنگ مراکز بنائے گئے تھے لیکن ان میں صرف ایک چوتھائی پر پولیس تعینات تھی اور باقی پولنگ مراکز پر سکیورٹی کے انتظامات ناقص تھے اور سکیورٹی کا عملہ بھی ضرورت کے مطابق نہیں تھا۔

ملک کے مختلف علاقوں سے انتخابی دھاندلیوں ، بے ضابطگیوں اور سرکاری عملہ کی حکومت کی حمایت میں کارروائیوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ بعض مقامات پر فوجیوں پر ووٹروں کو روکنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 128 افراد کو انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں سے بعض پر قتل ، ووٹ خرید کرنے اور بیلٹ باکس چھیننے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔