کینیا میں ایرانی سفیر کو کس الزام میں حراست میں لیا گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیا میں سکیورٹی حکام نے نیروبی میں ایرانی سفیر ہادی فرجوند کو حراست میں لے لیا ہے۔ فرجوند نے ایرانی پاسداران انقلاب کی سپاہ قدس فورسز کے دو ارکان کو فرار کرانے کی کوشش کی تھی۔ ان ارکان کو دہشت گردی سے متعلق الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انگریزی ویب سائٹ Kenyans کے مطابق کینیا کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی سفیر حکومت میں اعلی سطح کے عہدے داران تک پہنچنے کا طریقہ تلاش کر رہا تھا تا کہ پاسداران انقلاب کے دونوں مذکورہ ارکان احمد ابو الفتحی محمد اور سيد منصور موسوی کی رہائی میں مدد دے کر انہیں کینیا سے باہر فرار کروا دے۔

کینیا کے حکام کا خیال ہے کہ دونوں افراد سپاہ قدس فورس کے ارکان ہیں جو ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک خفیہ مشنوں بشمول دہشت گرد حملوں کو انجام دینے والا خصوصی یونٹ ہے۔

ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق کینیا میں فوجداری تحقیقات کے ادارے (DCI)کے افسران نے جمعے کے روز دو مقامی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ دونوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے خود کو کینیا کی وزارت داخلہ کا عہدے دار ظاہر کر کے ایرانی سفیر سے یہ کہہ کر رقم اینٹھ لی کہ وہ گرفتار شدگان ایرانیوں کے فرار میں سفیر کی مدد کر سکتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایرانی سفیر کو یقین تھا کہ دونوں مشتبہ ایرانیوں کو 8 فروری تک رہا کر دیا جائے گا۔ اسی بنیاد پر سفیر نے اپنے اور مذکورہ دونوں گرفتار شدگان ایرانیوں کے واپسی کے فضائی ٹکٹ بھی بک کروا لیے تھے۔ بعد ازاں فرجوند کو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہو چکا ہے جس پر اس نے تمام ٹکٹ منسوخ کروا دیے۔

حکام نے دونوں کینیائی شہریوں کو پکڑ لیا۔ ان دونوں افراد کو مومباسا میں ایک دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہرنے پر 2013 میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ بعد ازاں جیل میں اس سزا کو 15 برس کر دیا گیا اور پھر اپیل کورٹ منتقلی پر دونوں افراد کو 2018 میں رہا کر دیا گیا۔

کینیا کے جنرل پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر نورالدین حاجی نے ملزمان کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ۔ نورالدین کے مطابق وہ کینیا کی وزارت خارجہ کو خط تحریر کریں گے تا کہ سفارتی مامونیت کے حامل ایرانی سفیر کو طلب کر کے ان سے وضاحت پیش کرنے کے لیے کہا جائے۔

دسمبر 2016 میں کینیا کے حکام نے دو دیگر افراد کو گرفتار کیا تھا جو سپاہ قدس فورس کے اُن دو ارکان کی رہائی کا طریقہ ڈھونڈ رہے تھے جن کو مغربی مفادات کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں کینیا کی ایک عدالت نے 2013 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اسرائیلی سفارت خانے کی تصاویر لے رہے تھے۔

یاد رہے کہ سپاہ قدس فورس کے دونوں ارکان احمد ابو الفتحی محمد ارو سيد منصور موسوی کو جون 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کینیائی ذمے داران کے مطابق دونوں افراد کے ساتھ تحقیقات کے نتیجے میں 15 کلو گرام چھپائے گئے دھماکا خیز مواد کا انکشاف ہوا تھا۔ تاہم 85 کلو گرام دیگر گولہ بارود نہیں مل سکا جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ اس کی کھیپ کینیا پہنچائی گئی تھی۔

کینیا نے نومبر 2015 میں جاسوسی کے ایک "ایرانی نیٹ ورک" کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ملک میں دہشت گرد حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں