.

الجزائری فوج کی حکومت کے خلاف احتجاج پر سنگین نتائج کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں جہاں ایک طرف معمر مرد آہن عبدالعزیز بوتفلیقہ پانچویں بار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پرتول رہےہیں اور دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں 'تبدیلی اور اصلاحات' کے لیے سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد فوج نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائری نائب وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل احمد قاید صالح بے کہا ہے کہ بہ ظاہر لوگ جمہوریت کے لیے سڑکوں پرآنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر در پردہ وہ ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ملک کے جنوبی شہر تمنراست میں فوجی یونٹوں کے دورے کے دوران فوجی افسران کے اجلاس سےخطاب میں جنرل صالح نے استفسار کیا کہ 'کیا نام نہاد جمہوریت کے نعروں کی آڑ میں ملک کو بدامنی کی نذر کیا جا سکتا ہے۔ ہم عوام کو ایسے کسی خوش نما دعوے اور نعروں کے بہکاوے میں نہیں آنے دیں گے۔ احتجاج کرنے والے مظاہروں‌کےنتائج سے خبردار رہیں۔ ہم ملک کو خوشحالی کے راستے سے ہٹانے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

آرمی چیف نے تبدیلی اور اصلاحات کے علمبر داروں کو خبردار کیا کہ مظاہروں کے دوران تشدد کی صورت میں فوج اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی اور الجزائر کے امن وامان کو دائو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ رواں سال الجزائر میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا اور اس بار بھی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تین مارچ کو کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں بار صدر بننے کی کوششوں کی سخت مخالفت کی ہے۔