.

اوپیک اور اس کے شراکت دار ’’ تیل قیمتوں کا معاملہ آسان‘‘ لے رہے ہیں: سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے سی این بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے شراکت دار ممالک تیل کی قیمتوں میں استحکام کے معاملے کو آسان لے رہے ہیں۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ کے جواب میں یہ بات کہی ہے۔

امریکی صدر نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم سے کہا ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے کوششوں کو ذرا نر م کریں ۔

اس کے ردعمل میں خالد الفالح نے کہا کہ ’’ ہم اس کو آسان لے رہے ہیں۔پچیس ممالک نپا تلا اقدام کررہے ہیں ۔گذشتہ سال کی دوسری ششماہی نے یہ بات ثابت کی تھی اور ہمیں مارکیٹ کے استحکام میں دلچسپی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا’’ حالیہ تجزیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اوپیک ا ور اس کے اتحادیوں کو 2019ء کے اختتام تک تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے عمل کو برقرار رکھنا ہوگا اور موجودہ اعتدال پسند پیداوار کو جاری رکھنا ہوگا‘‘ ۔

اوپیک اور غیر اوپیک ممالک ( اوپیک پلس ) نے دسمبر کے اوائل میں یکم جنوری سے تیل کی پیداوار میں بارہ لاکھ بیرل یومیہ کمی سے اتفاق کیا تھا ۔سعودی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کی پیداوار میں کمی کے اس سمجھوتے میں مزید توسیع سے متعلق فی الوقت کوئی پیشین گوئی کرنا مشکل ہے۔

انھوں نے الریاض میں ایک تقریر میں کہا کہ اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کو تیل کی مارکیٹ میں توازن کے لیے اپنا کردار جاری رکھنا ہوگا لیکن اس کردار کو پائیدار بنانے کے لیے بروقت سرمایہ کاری ،قابل اعتماد رسد اور فالتو مناسب پیداوار کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آیندہ عشروں کے دوران میں تیل اور گیس ہی توانائی کے عالمی منظر میں چھائے رہیں گے اور توانائی کے لیے مجموعی مانگ بدستور بڑھتی رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ تیل کے صارف بہت سے ممالک کی توانائی کی پالیسیوں کی وجہ سے تیل اور گیس کی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مگر اوپیک اور ا س کے شراکت دار ممالک تیل کی مارکیٹ میں استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔