.

بھارت اور پاکستان ’ضبط وتحمل‘ سے کام لیں: امریکا کا مشورہ

ترکی کی اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی ختم کروانے کے لیے ثالثی کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کو ٹیلی فون کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ہم منصب کو بھارت کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور حکومت، پارلیمنٹ اور عوامی جذبات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی مقاصد اور انتخابات کیلئے خطے کا امن خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ خطے میں امن کے خواہاں ہیں لیکن سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت سے افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کاوشیں متاثر ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا حالیہ جارحانہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے۔ توقع کرتے ہیں کہ امریکا اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

او آئی سی سے رابطہ

شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد کو بھی ٹیلی فون کیا۔ انہوں نے کہاکہ او آئی سی پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی مذمت کرے۔ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کو او آئی سی کے اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے پر بھی شدید احتجاج کیا۔

ترک ثالثی کی پیشکش

ادھر ترک وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ ہم ترکی ہونے کے ناطے پاکستان بھارت کے کےدرمیان موجود مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے ہر طرح کا تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم نے پاکستان کو اپنے اس موقف سے آگاہ کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر انہیں خدشات لاحق ہیں اور ترکی ان مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ہونے کے لئے تیار ہیں۔

اس سے قبل ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر تین بار بات چیت کی اور پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔ اور کہا کہ حکومتِ ترکی بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرے گی۔