.

روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کا سودا طےشدہ ہے:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے کہا ہے کہ روس سے ایس - 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کا سودا طے شدہ ہے ۔ترکی نے امریکا کی اس روسی نظام کے بجائے پیٹریاٹ میزائل خرید کرنے کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ سے قبل صدر رجب طیب ایردوآن بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ترکی کے فیصلے سے اس کے نیٹو اتحادی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل دفاعی نظام معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو )کے فوجی آلات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔اس کے علاوہ نیٹو ممالک کو ترک صدر کے روسی صدر ولادی میر پوتین سے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش لاحق ہے۔

امریکا نے گذشتہ دسمبر میں ترکی کو ساڑھے تین ارب ڈالرز مالیت کے میزائل نظام فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔اس نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے کی اطلاعات کے بعد کیا تھا اور ترکی پر اپنے غصے کا بھی اظہار کیا تھا۔

لیکن صدر ایردوآن نے اگلے روز کہا تھا کہ ’’ترکی امریکا سے پیٹریاٹ میزائل خرید کرنے کے لیے’’ کھلا ‘‘ ہے لیکن اس فروخت سے ہمارے ملک کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔اس ضمن میں مشترکہ پیداوار ، کریڈٹ اور جلد ڈلیوری تینوں بڑی اہمیت کے حامل ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے پیٹریاٹ میزائل جلد مہیا کرنے پر تو مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا لیکن مشترکہ پیداوار اور قیمتِ خرید ( کریڈٹ) کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا ہے۔اب پہلے سے کیے گئے وعدے کے مطابق یہ میزائل نظام جولائی میں ترکی کو مہیا کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ترکی کو روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر خبردار کرچکا ہے ۔امریکی حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو روس سے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر امریکی قانون کے تحت پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور امریکی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف -35 لڑاکا جیٹ کی خریداری کے سودے پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

لیکن ترکی کا یہ موقف ہے کہ امریکا اور رو س کے ساختہ دونوں میزائل دفاعی نظام ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی ڈیل صدر رجب طیب ایردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان گرم جوش تعلقات کی اہم علامات میں سے ایک ہے۔دونوں صدور شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے بھی کوشاں ہیں۔