.

الجزائری پارلیمنٹ مچھلی منڈی بن گئی، ارکان میں ہاتھا پائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے پانچویں بارصدارتی انتخابات میں‌ حصہ لینے کے اعلان پر ملک میں پارلیمنٹ میں شامل جماعتوں کےدرمیان بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ گذشتہ روز الجزائری پارلیمنٹ میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جماعتوں اور مخالفین کے درمیان زبانی تلخ کلامی ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

الجزائری پارلیمنٹ میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ دو ماہ کے دوران یہ دوسرا اس طرح کا واقعہ ہے جس میں ایوان ایک بار پھر مچھلی منڈی بن گیا۔

ایوان میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب سماج پارٹی برائے ثقافت وجمہورتی کے رکن پارلیمنٹ حمدوس الرزق نے اپنی تقریر کے وران "الدجاج" پارٹی کے ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہون نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حکومت گونگی،بہری اور اندھی ہے جو کسی کی نہیں سنتی۔

دو طرفہ زبانی تلخ کلامی کے بعد ارکان میں ایک دوسرے کے خلاف غم وغصہ مزید بڑھ گیا۔ کئی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئےاور انہوں نے ہاتھا پائی شروع کردی۔ اس موقع پر اسپیکر معاذ بو شارب نے معاملے کو ٹھنڈہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہے۔

ٹی وی چینلوں پر چلائی جانے والی تصاویر میں دیکھایا گیا ہے کہ الجزائری پارلیمنٹ میں بعض ارکان نے ایک دوسرے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔