.

شمالی کوریا پرعاید پابندیاں نہیں اٹھائیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن کے ساتھ ان کی بات چیت اچھی رہی۔ انھوں نے یہ بات جمعرات کے روز دونوں سربراہان کے درمیان دوسری ملاقات کے ایجنڈے کو کم کیے جانے کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔

ویت نام کے دارالحکومت ہینوئے میں سربراہ ملاقات کے اچانک اور قبل از وقت اختتام کا سبب بیان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "بعض مرتبہ آپ کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے"۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ کم یونگ اُن نے جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے مقابل اپنے ملک پر عائد پابندیاں اٹھا لینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم وہ ایسا کرنے کے خواہش مند نظر نہیں آئے۔ ٹرمپ کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ نے باور کرایا ہے کہ وہ جوہری اور میزائل تجربات کا سلسلہ موقوف رکھیں گے۔

ٹرمپ کے مطابق دستخط کے لیے کاغذات تیار تھے مگر یہ ٹھیک نہیں رہا۔انھوں نے کہا کہ امریکا شمالی کوریا کی جانب معاونت کا ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ "شمالی کوریا تھوڑی دست برداری کے مقابل تمام پابندیاں اٹھا لیے جانے کی امید کر رہا تھا مگر ہم اس وقت اس پر عمل نہیں کر سکتے۔

امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آیندہ ہفتوں کے دوران کم یونگ اُن کے ساتھ بات چیت شروع ہونے کے فوری بعد نتائج سامنے آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ملاقات انتہائی دوستانہ ماحول میں اختتام کو پہنچی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ انہوں نے شمالی کوریا کے متعدد عہدے داران کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں اور وہ آئندہ ملاقاتوں کے حوالے سے پر امید ہیں۔

انہوں نے باور کرایا کہ مسئلہ پیچیدہ ہے اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔ پومپیو کے مطابق کم یونگ اُن اس وقت مزید کچھ پیش کرنے کے لیے تیار نہیں تھے مگر "ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بہتر پیش رفت ہو سکے گی"۔

اس سے قبل وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ویتنام کے دارالحکومت ہینوے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن کے درمیان منعقد ہونے والی دوسری سربراہ ملاقات میں "کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچا جا سکا"۔

امریکی صدارتی ترجمان سارہ سینڈرز نے جعمرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ "فی الوقت کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا تاہم فریقین مستقبل میں ملاقات کے لیے پُر امید ہیں"۔

شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر جمعرات کے روز بند کمرے میں بات چیت کے بعد علاحدہ سواریوں میں ہینوے میں ملاقات کے مقام سے روانہ ہو گئے۔


علاوہ ازیں ملاقات کے پروگرام میں شامل ظہرانے اور سمجھوتے پر دستخط کی تقریب کو بھی آخری لمحات میں منسوخ کر دیا گیا۔

وہائٹ ہاؤس نے پروگرام کی اچانک تبدیلی کی وجوہات کے حوالے سے تفصیلات دینے سے انکار کر دیا تھا اور صرف یہ کہا کہ ٹرمپ آج ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔

اس سے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن نے آج جمعرات کے روز کہا تھا کہ اگر وہ جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوتے تو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے انعقاد کے واسطے ہینوے نہ آتے۔

البتہ کم یونگ نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے مفہوم کے حوالے سے فریقین کے بیچ اختلاف اس وقت زیر بحث ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ نے باور کرایا کہ پیونگ یانگ میں اگر امریکی رابطے کے دفتر کا افتتاح ہوتا ہے تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔

دوسری جانب ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا اور امریکا کے حوالے سے ایک اچھا معاہدہ طے کریں گے۔ انہوں نے کم یونگ اُن کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلد بازی نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ وہ اور کم یونگ دونوں ایک درست سمجھوتا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق وہ پیانگ یانگ کی جانب سے ہتھیاروں کے تجربات روکنے کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔