.

ہینوے سربراہ ملاقات ناکام : ٹرمپ اور کم یونگ اُن نے اپنی اپنی راہ لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ ویتنام کے دارالحکومت ہینوے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن کے درمیان منعقد ہونے والی دوسری سربراہ ملاقات میں "کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچا جا سکا"۔

امریکی صدارتی ترجمان سارہ سینڈرز نے جعمرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ "فی الوقت کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا تاہم فریقین مستقبل میں ملاقات کے لیے پُر امید ہیں"۔

شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر جمعرات کے روز بند کمرے میں بات چیت کے بعد علاحدہ سواریوں میں ہینوے میں ملاقات کے مقام سے روانہ ہو گئے۔

علاوہ ازیں ملاقات کے پروگرام میں شامل ظہرانے اور سمجھوتے پر دستخط کی تقریب کو بھی آخری لمحات میں منسوخ کر دیا گیا۔

وہائٹ ہاؤس نے پروگرام کی اچانک تبدیلی کی وجوہات کے حوالے سے تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ آج ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔

اس سے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن نے آج جمعرات کے روز کہا تھا کہ اگر وہ جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوتے تو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے انعقاد کے واسطے ہینوے نہ آتے۔

البتہ کم یونگ نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے مفہوم کے حوالے سے فریقین کے بیچ اختلاف اس وقت زیر بحث ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ نے باور کرایا کہ پیونگ یانگ میں اگر امریکی رابطے کے دفتر کا افتتاح ہوتا ہے تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔

دوسری جانب ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا اور امریکا کے حوالے سے ایک اچھا معاہدہ طے کریں گے۔ انہوں نے کم یونگ اُن کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے واسطے جلد بازی نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ وہ اور کم یونگ دونوں ایک درست سمجھوتا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق وہ پیونگ یانگ کی جانب سے ہتھیاروں کے تجربات روکنے کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔