.

الجزائر میں دسیو ں صحافی سنسر شپ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت پر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں پولیس نے دسیوں صحافیوں کو جمعرات کے روز سنسر شپ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت پرگرفتار کر لیا ہے۔الجزائری صحافی علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں مدت صدارت کے لیے امیدواری کے خلاف مظاہروں کی کوریج پر حکام کی جانب سے عاید کردہ پابندی کی مذمت میں احتجاج کررہے تھے۔

دارالحکومت الجزائر کے وسط میں سرکاری اور نجی میڈیا اداروں سے وابستہ قریباً ایک سو صحافیوں نے مظاہرہ کیا ہے۔وہ میڈیا مالکان کی جانب سے گذشتہ جمعہ سے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ پر عاید قدغنوں کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

پولیس ان میں سے دسیوں صحافیوں کو اپنی گاڑیوں میں ڈال کر لے گئی ہے جس کے بعد باقی ماندہ صحافیوں نے ایک اور احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔دنیا بھر میں صحافت اور صحافیوں پر قدغنوں کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ماورائے سرحد نے منگل کے روز الجزائری حکام پر میڈیا کو خاموش کرانے کا الزام عاید کیا تھا۔

الجزائر میں علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے پانچویں مدت صدارتِ کے لیے امیدوار بننے کے خلاف گذشتہ جمعہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہزاروں مظاہرین دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ 81 سالہ بوتفلیقہ سے بہ طور صدارتی امیدوار دستبردار ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز بوتفلیقہ کے طبی طور پر تن درست ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ان کے نام پر ان کے مشیر حضرات حکومت چلا رہے ہیں۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر کی علالت کے باوجود اقتدار پر مضبوط گرفت برقرار ہے اور اہم فیصلے وہی کرتے ہیں۔ علیل بوتفلیقہ گذشتہ اتوار کو سوئٹزر لینڈ پرواز کر گئے تھے ۔الجزائری ایوان صدر نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ صدارتی انتخابات سے قبل معمول کے چیک اپ کے لیے گئے تھے۔

الجزائر کے سرکاری کے علاوہ نجی میڈیا کو بھی حزب اختلاف کے ان مظاہرو ں کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔ حکومت کے قریب میڈیا مالکان نے از خود ہی ان حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج پر پابندی عاید کر دی ہے۔سرکاری میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے بھی اس پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے مینجروں نے ریلیوں کی خبریں دینے پر پابندی عاید کردی ہے۔

سرکاری ریڈیو سے وابستہ صحافیوں نے اگلے روز ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں کہا تھاکہ ’’ ہمارے حکام بالا نے جمعہ 21 فروری کو ایک بڑے احتجاجی مارچ کی کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، اسی سے ہماری ابتر صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔

سرکاری ریڈیو کی ایڈیٹر اور ایک معروف رپورٹر مریم عبدو نے حکام کے رویّے کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی ملازمت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیشے کے بنیادی قواعد و ضوابط کی بھی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر کی حکمراں جماعت جبھ التحرير الوطنی ( ایف ایل این )نے 10 فروری کو علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو 18اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کردیا تھا۔الجزائری صدر دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔

وہ 2013ء میں مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے۔وہ تب وطن واپسی کے بعد سے کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں۔گذشتہ صدارتی انتخابات میں ان کی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی تھی۔وہ وہیل چئیر پر ہیں اور خرابیِ صحت کی بنا پر وہ الجزائر کے دورے پر آنے والے عالمی لیڈرو ں سے ملاقاتیں بھی نہیں کرتے ہیں۔