.

یمن : سویڈن معاہدہ بچانے کے لیے برطانیہ کی آخری کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ آئندہ دو روز کے دوران یمن میں متحارب فریقین کے نمائندوں سے ملاقات کر کے سویڈن معاہدے پر فوری عمل درامد کے لیے زور دیں گے۔ برطانوی سفارتی ذریعے نے یہ بات بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ معاہدے کو بچانے کا یہ آخری موقع ہے۔

جیرمی ہنٹ نے اسٹاک ہوم معاہدہ بچانے کے لیے جمعرات سے خطے کا دورہ شروع کیا ہے۔ یہ دورہ معاہدہ طے پانے کے دس ہفتوں کے بعد ہو رہا ہے جب کہ اس دوران حوثیوں کی ہٹ دھرمی کے سبب معاہدے پر عمل درامد میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل یمن میں برطانوی سفیر مائیکل ایرون عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے ساتھ بات چیت میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ جیرمی ہنٹ کے دورے کا آغاز سلطنت عمان سے ہو گا جہاں وہ حوثیوں سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا رخ کریں گے جہاں ان کی ملاقات یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی اور دونوں ملکوں کے عہدے داران سے ہو گی۔

ایرون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہنٹ کا دورہ یمن میں پورے امن عمل کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دورہ اسٹاک ہوم معاہدہ بچانے کے لیے آخری موقع کے مترادف ہو گا۔ ایرون کے مطابق "یہ بات سب جانتے ہیں کہ الحدیدہ میں صورت حال انتہائی مشکل ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ پیش رفت کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہم فریقین کی جانب سے مثبت اقدامات کے منتظر ہیں"۔ ایرون نے جنیوا میں یمن کے لیے عطیہ کنندگان کی کانفرنس کے نتائج کو سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ نے یمن میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سپورٹ بڑھا دی ہے۔

برطانوی سفیر کا کہنا تھا کہ "ہم پر امید ہیں ... جنیوا کانفرنس نے یمن میں انسانی صورت حال کے حوالے سے عالمی برادری کی دل چسپی ظاہر کر دی ہے۔ یمنی عوام کو ضرورت ہے کہ سویڈن معاہدے پر عمل درامد ہو۔ میرے نزدیک مسئلہ فریقین کے درمیان عدم اعتماد کا ہے۔ یہ کام خصوصی ایلچی کا ہے جو اس وقت دونوں فریقوں کے بیچ اعتماد سازی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اعتماد قائم ہونے کی صورت میں پیش رفت زیادہ آسان ہو جائے گی"۔

ایرون کے مطابق دونوں ہی فریق یہ کہتے ہیں کہ وہ معاہدے پر عمل درامد کے لیے تیار ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ کا دورہ نہایت اہم ہو گا اور آنے والے دنوں میں پیش رفت سامنے آئے گی۔

واضح رہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے باغیوں کی قیادت کو الحدیدہ میں نئی صف بندی کے پہلے مرحلے پر عمل درامد پر قائل کرنے کے واسطے تین روز گزارے تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ اس کے بعد گریفتھس جمعرات کے روز صنعاء سے روانہ ہو گئے۔