.

ایران نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر برطانیہ کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر برطانیہ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کرتے وقت لبنان کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی منشا اور اس تنظیم کی داعش کے خلاف جنگ میں خدمات کو نظرانداز کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’’برطانوی اقدام میں لبنانی عوام کے ایک بڑے حصے اور لبنان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں حزب اللہ کی قانونی حیثیت کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے‘‘ ۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ’’ حزب اللہ نے حالیہ برسوں کے دوران میں لبنان کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ خطے میں داعش ایسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے‘‘۔

برطانیہ نے گذشتہ سوموار کو حزب اللہ کی تمام شاخوں کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کا ا علان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس لبنانی تنظیم کو مشرقِ اوسط میں تخریبی کردار کے پیش نظر امریکا ہی کی طرح دہشت گرد قرار دے دے گا۔اس سے پہلے اس نے حزب اللہ کے بیرونی سکیورٹی یونٹ اور مسلح ونگ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

حزب اللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں برطانیہ کےا س فیصلے کی مذمت کی تھی اور اس کو امریکا کی ’’غلامانہ تابع داری‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا تھا لیکن اس فیصلے سے حزب اللہ اور لبنانی حکومت پر بیرونی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور اس کے سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔