.

سعودی عرب سے تزویراتی شراکت داری نے برطانیہ کو محفوظ بنا دیا: جیریمی ہنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی تعلقات سے برطانیہ کی سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ سعودی وزیر خارجہ ابراہیم العساف اور عادل الجبیر کے ساتھ آج الریاض میں ان کی ملاقات شاندار رہی ہے۔سعودی عرب کے ساتھ ہماری تزویراتی شراکت داری سے برطانیہ کو محفوظ رکھنے میں مدد ملی ہے۔ ان سے یمن ایسے سفارتی ترجیحی موضوع اور باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان سعودی وزیرخارجہ ڈاکٹر ابراہیم العساف سے الریاض میں آج ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان کے مطابق :’’ ملاقات میں انھوں نے دونوں دوست مملکتوں کے درمیان تاریخی دوطرفہ تعلقات اور شراکت داری کا جائزہ لیا ہے اور خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر بات چیت کی ہے‘‘۔

’’انھوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جاری اقدامات اور باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر بھی گفتگو کی ہے‘‘۔ مسٹر ہنٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ انھوں نے عادل الجبیر کے ساتھ سعودی عرب میں انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات ،خواتین کارکنان اور تولیتی قانون سمیت خاشقجی قتل کیس کے معاملے پر تبادلہ خیال ہے‘‘۔

برطانوی وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ انھوں نے عادل الجبیر کے ساتھ بات چیت میں یمن کی صورت حال اور وہاں قیام ِامن کے لیے ساحلی شہر الحدیدہ سے حوثی ملیشیا کے فوری طور پر انخلا سے اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھوں نے الریاض میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے ملاقات کی ہے اور ان سے بھی جنگ زدہ ملک میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں قیام امن کے لیے کوششوں پر ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس وقت (یمنی فریقوں میں ) عدم اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے اور اسٹاک ہوم میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے پر عمل درآمد میں ابھی بہت وقت لگے گا لیکن کسی کے پاس بھی اس سے اچھا منصوبہ نہیں ہے ،اس لیے ہمیں اس پر عمل پیرا ہوکر بحران کا خاتمہ کرنا چاہیے‘‘۔