.

سعودی عرب:قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوّث زیرِحراست افراد سے تحقیقات مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے محکمہ استغاثہ نے قومی سلامتی اور ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار مشتبہ افراد سے تحقیقات مکمل کر لی ہے اور ان کے خلاف فردِ جرم بھی تیار کرلی ہے۔اب ان کے خلاف کیس سماعت کے لیے عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے۔

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے ان افراد کو گذشتہ سال قومی اتحاد ، سلامتی اور استحکام کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔محکمہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان تمام گرفتار افراد کو سعودی قوانین کے مطابق اپنے دفاع اور صفائی کے تمام حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔

محکمہ استغاثہ کے دفتر نے 2 جون 2018ء کو چار عورتوں سمیت نو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا ا علان کیا تھا۔ان کی گرفتاری ٹھوس شواہد کی بنا پر عمل میں آئی تھی ۔حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد نے دورانِ تفتیش غیر قانونی تنظیموں سے روابط کا اعتراف کیا ہے۔ان کے علاوہ آٹھ اور افراد بھی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست ہیں اور ان سے ابھی تحقیقات جاری ہے۔

دریں اثناء سعودی عرب کے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر شلعان بن راجح الشلعان نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد پر تشدد کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی زیر حراست فرد پر تشدد نہیں کیا گیا اور تمام گرفتار افراد سے سعودی قوانین کے مطابق معاملہ کیا جارہا ہے۔انھیں اپنے خاندان کے افراد سے میل ملاقات اور روابط کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار مذکورہ افراد کے خلاف سعودی عرب مخالف تنظیموں اور افراد سے تعلق اورروابط اور حساس سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔انھوں نے سرکاری اداروں سے اپنے ان ذرائع کی مدد سے حساس معلومات اور دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔