.

ہم عظیم تہذیب کی ’’آل اولاد ‘‘ ہیں،ترکی عرب دنیا میں ہر کہیں ہے: ترک وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے کہا ہے کہ ’’ترک ایک عظیم تہذیب کی آل اولاد ہیں،ہم صرف ترکی ہی میں نہیں ، بلکہ عرب دنیا اور دوسرے عرب شہروں میں بھی موجود ہیں‘‘۔

وہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیاربکیر میں حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) کے حامیوں کی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’ ہم صرف ترکی نہیں بلکہ دمشق ، حلب ، کرکوک ، یروشلیم ، فلسطین ، مکہ اور مدینہ ہیں۔ہم ایک عظیم تہذیب کی آل اولاد ہیں‘‘۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق سوئلو اسی ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے اپنی جماعت کے امیدواروں کی مہم کے سلسلے میں دیاربکیر گئے تھے۔انھوں نے شہر کے پولیس ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر تقریر کی ہے اور اس میں ترک پولیس کی سائبر صلاحیتوں کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ دنیا میں ترک پولیس فورس کا سائبر صلاحیتو ں میں کوئی ہم پلّہ نہیں ‘‘۔

آق پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار 31 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل کرد اکثریتی شہروں کے دورے کررہے ہیں اور وہاں اپنی جماعت کے امیدواروں کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔

دیاربکیر اور دوسرے جنوب مشرقی شہروں میں کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کے جنگجوؤں نے گذشتہ قریباً 35 سال سے انقرہ حکومت کے خلاف بغاوت برپا کررکھی ہے۔اس دوران میں 45 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی ، امریکا اور یورپی یونین نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

اکتوبر میں حکام نے پی کے کے سے تعلق کے الزام میں 90 افراد کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ کردوں کی ایک مرکزی سیاسی جماعت نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی تھی اور اس کوحکومت کے سیاسی محرکات پر مبنی کریک ڈاؤن کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ترک فوج کے لڑاکا طیارے پڑوسی ملک عراق کے شمالی علاقوں میں بھی کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر آئے دن فضائی حملے کرتے رہتے ہیں۔ان حملوں میں سیکڑوں کرد جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔