.

رولز رائس کمپنی ترکی کے لڑاکا طیارے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لگژری گاڑیاں اور ہوائی جہازوں کے انجن تیار کرنے والی برطانوی کمپنی رولز رائس نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس نے ترکی کے ساتھ ایک نئے لڑاکا طیارے کی تیاری کے منصوبے میں ضم ہونے کی کوششیں کم کر دی ہیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق رولز رائس کمپنی اور ترکی کے Kale گروپ کے درمیان بات چیت گزشتہ برس اختلافات کے سبب مشکلات کا شکار ہو گئی۔ یہ اختلافات انٹیلکچوئل پراپرٹی کی تقسیم اور ایک قطری ترکی کمپنی کی شرکت کے حوالے سے پیدا ہوئے۔

باخبر ذرائع کے مطابق کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد رولز رائس کمپنی نے لڑاکا طیارے کی ففتھ جنریشن کی تیاری کے واسطے بولی جیتنے کی کوششیں ترک کر دی ہیں۔

ترک گروپ Kale نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ رولز رائس کمپنی کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کا آغاز کرے گا۔ یہ اعلان برطانیہ اور ترکی کے درمیان 10 کروڑ پاؤنڈز کے دفاعی سمجھوتے کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ سمجھوتا ترکی کے لیے لڑاکا طیاروں کی تیاری کے واسطے تھا۔

گزشتہ برس ترکی کی دفاعی صنعت کے ڈائریکٹر اسماعیل دیمیر نے کہا تھا کہ TF-X ترک لڑاکا طیارے کے منصوبے میں شریک ہونے کے لیے انجن تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔