.

فلسطینیوں کے لیے امریکی سفارتی مشن میں کمی آج سے نافذ العمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے امریکا کی سفارتی نمائندگی میں کمی سے متعلق فیصلہ آج پیر کے روز سے نافذ العمل ہو گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چار مارچ 2019 کو بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کو بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے میں ضم کر دیا جائے گا ،،، اس طرح ایک سفارتی مشن تشکیل پا جائے گا"۔

بیت المقدس میں ایک سفارتی مشن قائم کرنے کے فیصلے کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ برس اکتوبر میں کیا تھا۔

انضمام کے عمل سے فلسطینیوں میں اس اندیشے نے جنم لیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ متنازع بیت المقدس شہر کے حوالے سے فلسطینیوں کے اندیشوں کو خاطر میں نہیں لا رہی۔

ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں بیت المقدس کو اسرائیل کا سفارت خانہ تسلیم کر کے عرب دنیا میں غم و غصے کی لہر اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کو بھڑکا دیا تھا۔ امریکی سفارت خانہ مئی 2018 میں تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا گیا تھا۔

فلسطینی رہ نماؤں نے سفارت خانے کی منتقلی کے بعد امریکی انتظامیہ کے ساتھ سفارتی رابطے معلق کر دیے تھے۔ انہوں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے امن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے امریکی کوششوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی امریکا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حق میں جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ فلسطینیوں کے لیے مختص سب سے بڑا مشن ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے اس معاملے پر وسیع بین الاقوامی سپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مشرقی بیت المقدس اُس ریاست کا دارالحکومت ہو جو وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔