.

شام میں گرفتار داعشی کی شہریت ختم نہیں کی جائے گی،مقدمہ چلائیں گے:وزیراعظم نیوزی لینڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ شام میں داعش میں شمولیت کے الزام میں گرفتار ایک شہری کی شہریت منسوخ نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے خلاف وطن واپسی پر فوجداری الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والا مارک ٹیلر 2014ء میں شام گیا تھا ۔وہ اس وقت شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے زیر انتظام ایک جیل میں قید ہے ۔اس نے آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی سے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے آبائی وطن لوٹا تو اس کو جیل کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم آرڈرن نےسوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارک ٹیلر نے غیر قانونی طور پر داعش میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کو اس کے قانونی مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ان کی حکومت اگر ممکن ہوا تو اس کو سفری دستاویزات مہیا کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ مسٹر ٹیلر کے پاس صرف نیوزی لینڈ کی شہریت ہے اور حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بے ریاست نہ کرے‘‘۔انھوں نے واضح کیا کہ نیوزی لینڈ کے قانون کے تحت جس شخص کے پاس دو ملکوں کی شہریت نہیں ،اس کو بے ریاست نہیں کیا جاسکتا۔

انھوں نے بتایا کہ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے چند ایک اور افراد نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن انھوں نے ان کی حقیقی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام نے ٹیلر کو مطلع کیا ہے کہ اس کو کسی ایسے ملک میں جانا ہوگا جس کے نیوزی لینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ شام کے نزدیک ترین ایسا ملک ترکی ہوسکتا ہے اور وہاں ٹیلر کو ہنگامی سفری دستاویزات فراہم کی جاسکتی ہیں لیکن فی الوقت اس کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا کیونکہ وہ زیر حراست ہے۔

مارک ٹیلر نے اے بی سی سے سوموار کو ایک انٹرویو میں بتایاکہ وہ پانچ سال تک داعش کے ساتھ محافظ کے طور پر کام کرتا رہا تھا اور اس کو متعدد مرتبہ جیلوں میں بند کیا گیا تھا۔اس نے 2015ء میں ایک ٹویٹ میں حادثاتی طور پر اپنے محل وقوع کی تفصیل جاری کردی تھی جس پر اس کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔