.

شام میں امریکی انخلا سے پیدا ہونے والا خلا ایران پُر کرے گا : شہزادہ ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ اور شاہ فیصل مرکز برائے تحقیق اور اسلامی مطالعات کے چیئرمین شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے شام سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے سے خطے میں ایران کی موجودگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔ان سے جب شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے مضمرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ اس سے ایک خلا پیدا ہوگا اور اس کو ایرانی فوجی اور ایرانی ملیشیائیں ہی پُر کریں گی۔انھوں نے امریکا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام سے فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

انھوں نے کہا:’’ یہ افسوس کی بات ہے کہ وہ ( امریکی) اس علاقے کو خالی کریں گے اور اس سے اگلے روز ہی ایرانی اس کو پُر کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔چناں چہ وہ ایسا کیوں کر کہہ سکتے ہیں یا کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ شام سے ایران کو نکالنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ایک خلا بھی پیدا کررہے ہیں اور اس کو ایرانی فوجی اور ایرانی ملیشیائیں ہی پُر کریں گی‘‘۔

عرب حکومتوں کی شام پر ایرانی اثرونفوذ کے خاتمے کے حوالے سے بات چیت سے متعلق سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ان حکومتوں کو اسد رجیم پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایرانی تعلق سے دستبردار ہوجائے گا۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ’’ بشار الاسد نے اپنے عوام سے ان کا معیار زندگی بہتر بنانے یا ان کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے رجوع نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے انھوں نے شامیوں کو جبر وتشدد کا نشانہ بنایا ، انھیں قتل کیا اور دربدر کرکے شام سے نکال باہر کیا۔انھوں نے یہ سب کچھ کرنے کے لیے ایران کا رُخ کیا تھا‘‘۔

انھوں نے روس کے شامی حکومت پر ایران سے تعلقات توڑنے کے لیے دباؤ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا :’’یہ سوچنا بھی ایک دھوکا اور التباس ہی ہو گا کہ روس اسد رجیم پر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ تین سال کے دوران میں شام میں ایران کی موجودگی میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی واقع نہیں ہوئی‘‘ ۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی روسی عہدے دار نے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ انھوں نے بشارالاسد پر ایرانی اثرونفوذ کم کرنے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا ہے۔