لیبیا میں انتخابات رواں سال کے آخر میں ہوں گے : فائز السراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیراعظم فائز السراج نے منگل کے روز ایک اعلان میں کہا کہ ملک میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا انعقاد رواں سال کے آخر میں ہو گا۔

اقوام متحدہ نے سابق سربراہ معمر قذافی کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد سے جاری تنازع کے حل کے واسطے گزشتہ برس 10 دسمبر کو لیبیا میں انتخابات کرانے کا ارادہ کیا تھا مگر پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ اور حریف کیمپوں میں عدم مفاہمت انتخابات کی راہ میں حائل ہو گئی۔

اس وقت لیبیا دو حکومتوں میں منقسم ہے۔ ان میں پہلی حکومت طرابلس میں قائم ہے اور یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے جب کہ ملک کے مشرق میں قائم دوسری متوازی حکومت کو جنرل خلیفہ حفتر کی سپورٹ حاصل ہے۔ حفتر کی فورسز کو ملک کے مشرقی حصے پر کنٹرول حاصل ہے۔

فائز السراج نے گزشتہ ہفتے ابوظبی میں خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی۔ تاہم ابھی تک اس ملاقات کی قابل ذکر تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ السراج نے طرابلس میں ایک خطاب میں اعلان کیا کہ وہ اور حفتر رواں سال کے اختتام پر انتخابات کرانے پر متفق ہو گئے ہیں۔

السراج کا کہنا تھا کہ حفتر کے ساتھ ان کی ملاقات کا مقصد خون ریزی کا سلسلہ روکنا اور ملک کو عسکری تنازع کے گڑھے میں جانے سے بچانا ہے۔

رواں سال جنوری سے جنرل حفتر کی قیادت میں لیبیا کی فوج نے ملک کے جنوب میں اپنے کنٹرول میں توسیع کی ہے اور ملک میں مرکزی آئل فیلڈز کو محفوظ بنایا ہے۔ اس طرح کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ لیبیا کے مغرب میں دارالحکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کے واسطے ان فورسز کے حرکت میں آنے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں