تیونس :پارلیمانی 6اکتوبر اور صدارتی انتخابات 10نومبر کو کرانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس کے آزاد الیکٹورل کمیشن نے ملک میں 6 اکتوبر کو پارلیمانی اور 10 نومبر کو صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

تیونس کے آزاد الیکشن کمیشن کے صدر نبیل بافون نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں آیندہ ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی ان تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔البتہ 10 نومبر کو صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوگا ۔اگر کوئی بھی امیدوار مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ لے سکا تو پھر دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

پارلیمانی انتخابات میں اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ ، وزیراعظم یوسف شاہد کے زیر قیادت سیکولر جماعت تحیہ تونس اور صدر باجی قائد السبسی کے بیٹے حافظ قائد السبسی کے زیرِ قیادت ندا تونس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ان تینوں جماعتوں نے ابھی تک اپنے اپنے صدارتی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔

تیونس میں اس وقت بھی ایک مخلوط حکومت قائم ہے جس میں شامل جماعتوں میں باہمی چپقلش کے نتیجے میں فیصلہ سازی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل سست روی کا شکار ہوا ہے اور ملک میں اقتصادی اصلاحاتی پر سست رفتار پیش رفت پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت قرضے دینے والے ادارے اور ممالک حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

تیونس میں 2011ء میں برپا شدہ عرب بہار یہ انقلاب کے بعد یہ تیسرے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔شمالی افریقا میں واقع اس ملک میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا اور اس کے بعد تیونسی شہریوں نے پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کے ذریعے ایک عبوری حکومت کا انتخاب کیا تھا۔

تیونس کی 2011ء کے بعد سے جمہوری عمل کے تسلسل پر تو دنیا بھر میں تعریف کی گئی ہے لیکن گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران میں پے درپے نو حکومتیں بنی ہیں مگر وہ افراطِ زر کی بلند شرح اور بے روزگاری سمیت ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں جس کے پیش نظر ملک میں گاہے گاہے بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں