افغان دارالحکومت میں ہزارہ وال کے اجتماع پر راکٹوں سے حملہ ، ایک شخص ہلاک

ہزارہ لیڈر عبدالعلی مزاری کی برسی میں شریک چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور تین صدارتی امیدوار بال بال بچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے ایک اجتماع پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ٹی وی چینل طلوع نیوز نے اپنے کیمرا مین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کے روز ہزار وال کے ایک قائد کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک بڑے اجتماع پر کم سے کم دس راکٹ فائر کیے گئے ہیں اور ان کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ افغانستان کی وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ معیار نے اس راکٹ حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔برسی کی اس تقریب میں سیکڑوں افراد شریک تھے۔

ہزارہ وال کی ایک سیاسی جماعت کے رہ نما محمد محقق نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے بیان میں بتایا کہ ’’ ہمارا اجتماع حملے کی زد میں ہے۔چہارسمت سے ہماری جانب راکٹ آرہے ہیں‘‘۔اس اجتماع میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ سمیت حکومت کے متعدد اعلیٰ عہدے دار شریک تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں داعش ، طالبان اور دوسرے جنگجو گروپ شیعہ ہزار وال کے اجتماعات پر راکٹ یا بم حملے کرتے رہے ہیں۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا ہے کہ اس حملے کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متعدد دوسرے حملہ آوروں کا سکیورٹی فورسز نے محاصرہ کررکھا تھا۔

برسی کے اس اجتماع میں جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدوار بھی شریک تھے۔ایک صدارتی امیدوار محمد حنیف اتمار راکٹوں کے اس حملے میں خود تو محفوظ رہے ہیں لیکن ان کے آٹھ محافظ زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

یہ اجتماع ایک ہزارہ لیڈر عبدالعلی مزاری کی برسی کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔انھیں طالبان نے 1995ء میں اپنے دورِحکومت میں قید کر لیا تھا اور دوران حراست ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں