روسی میزائل نظام کی خریداری، امریکا نے ترکی کو خطرناک نتائج سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان چارلز سیمرز نے اعلان کیا ہے کہ اگر ترکی نے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق روس سے S-400 میزائل شکن دفاعی نظام خریدا تو انقرہ کو "خطرناک نتائج" کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پینٹاگون میں جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سیمرز نے مزید کہا کہ ترکی نے مذکورہ میزائل نظام خریدا تو اس کے ہمارے تعلقات پر عمومی اور ہمارے عسکری تعلقات پر خصوصی طور پر خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔

امریکی ترجمان نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں ترکی کے حکام F-35 طیارے اور پیٹریاٹ میزائل حاصل نہیں کر سکیں گے۔

امریکا کا خیال ہے کہ ترکی کی جانب سے S-400 دفاعی نظام خریدے جانے کی صورت میں امریکی F-35 طیاروں کے عسکری راز کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ مذکورہ طیارے کے متعلق خیال ہے کہ وہ روس کے اس دفاعی میزائل نظام سے بچ نکلنے پر قادر ہے۔

واشنگٹن نے دسمبر 2018 میں نیک نیتی کی دلیل کے طور پر ترکی کو میزائل شکن پیٹریاٹ نظام فروخت کرنے کی منظوری دی تھی تا کہ انقرہ کو روسی میزائلوں کی عدم خریداری پر قائل کیا جا سکے۔ تاہم ایردوآن نے بدھ کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرا دیا کہ روسی ہتھیاروں کے سمجھوتے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یورپ میں نیٹو کی افواج کے اعلی کمانڈر امریکی جنرل کورٹس اسکاپیروٹی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ ترکی نے واقعتا S-400 روسی نظام خریدا تو "ہم روس کے میزائل شکن نظام کی موجودگی میں F-35 طیاروں کی اڑان کی اجازت نہیں دے سکتے"۔

واشنگٹن نے جون 2018 میں امریکی F-35 طیاروں کی پہلی کھیپ ترکی کے حوالے کی تھی۔ تاہم یہ طیارے فی الحال امریکا میں ہی رہیں گے تا کہ ترک پائلٹوں کو اس کی تربیت دی جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ تربیتی عمل ایک سے دو سال کی مدت کا ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں