ٹرمپ کی ترکی پر تجارتی پابندیاں اور ایردوآن کی پراسرار خاموشی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی اور امریکا کے درمیان حالیہ ایام میں ایک بار پھر تنائو دیکھا جا رہا ہے۔ ترکی روس سے فضائی دفاعی نظام 'ایس 400' کی خریداری کے لیے کوشاں اور جب کہ امریکا نے انقرہ کو اس دفاعی ڈیل پر وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوتا ہے تو امریکا ترکی کے ساتھ 'ایف 35' طیاروں کی ڈیل منسوخ کر دے گا۔

دوسری طرف صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکا کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ 'ایس 400' دفاعی نظام ضرور خرید کرے گا۔ اس باہمی تنقید اور توبیخ کے جلو میں یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ‌ ٹرمپ نے ترکی پر تجارتی پابندیاں عاید کرنا شروع کی ہیں مگر امریکی اقدامات پر ترک صدر خاموش ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'بلومبرگ' کے نامہ نگار سلیکان ھاکوگلو کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے خلاف عالمی سطح پر کسی بھی اقدام پر صدر طیب ایردوآن فوری اور جذباتی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں مگر حالیہ ہفتے کے دوران انہوں نے چار بار انتخابی جلوسوں میں تقاریر کیں مگر امریکی صدر کی طرف سے تفصیلی تجارتی معاہدے کے منسوخی پر کوئی بات نہیں کی۔ حالانکہ امریکی صدر کے انتقامی حربے سے بڑی تعداد میں ترک تاجروں‌ کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس کے علاہ ترک صدر یہ تو کہہ دیا کہ وہ روس سے 'ایس 400' دفاعی نظام خرید کریں گے مگر انہوں نے امریکا کی طرف سے رویے پر واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ اسی طرح شام میں محفوظ زون کی نگرانی مختلف ملکوں کو دینے کے اعلان پر بھی صدر طیب ایردوآن خاموش ہیں حالانکہ وہ ماضی میں شام میں محفوظ زون کی نگرانی ترکی کو دینے پر زور دیتے رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے اختیار کردہ خاموشی کے پیچھے متعدد عوامل ہو سکتے ہیں۔ رواں ماہ ترکی میں بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ترک صدر نہیں چاہتے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کوئی ایسی بحث چھیڑیں جس کے نتیجے میں ترک لیرہ کی قیمت میں کمی آجائے۔

اگر ایسا ہوتا ہے کہ انتخابات میں ان کی حمایت پر منفی اثر پڑے گا۔ گزشتہ برس بھی انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے بعد صرف چار ہفتوں میں ترک لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 3 فی صد کم ہوگئی تھی او حکومت کو ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب بھی ترک لیرہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کرسکا ہے۔ایسے ہیں میں ترک صدر کی امریکا کے ساتھ کسی قسم کی زبانی محاذ آرائی ترکی کے معاشی پلان کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

امریکا کی طرف سے ترکی پر 'ایس 400' دفاعی نظام کی روس سے خریداری روکنے کے لیے دبائو کے بعد ترک وزارت خارجہ کی طرف سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ ترک وزیر خارہ مولود جاویش اوگلو نے کہا ہے کہ "اگر ہم نیٹو کےاتحادی ہیں اور فرض کریں کہ ہم نیٹو میں اپنی یکجہتی کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں ہمیں جہاں ترکی کو ضرورت ہوگی وہاں پر اسلحہ خریدا اور بیجا جا سکے گا۔ اگر آپ ترکی کو اسلحہ نہیں دے سکتے تو پھر نیٹو سے باہر کسی دوسرے ملک سے انقرہ کو اسلحہ کی خریداری سے روکنے کا کوئی حق نہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں