کوموروس کے صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی ملک کوموروس کے صدر غزالی عثمان پر جمعرات کے روز قاتلانہ حملہ کیا گیا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔ عبوری صدر غزالی عثمان کی انتخابی مہم کے انچارج نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر عثمان 24 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔

دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر غزالی عثمان پر حملے کا واقعہ جزیرہ انجوان میں پیش آیا، تاہم صدر کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

خیال رہے کہ کوموروس میں گزشتہ برس 30 جولائی کو ہونے والے ایک ریفرنڈم کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ اس ریفرینڈم میں آئندہ مسلسل دو مرتبہ غزالی عثمان کو ملک کا صدر منتخب کرنے اور 2029ء تک اقتدار پر فائز رہنے کی حمایت کی گئی تھی۔

ملک کے تین بڑے جزائر الارخبیل، انجوان اور موھیلی نے صدر کی پانچ سالہ مدت سے زاید عرصے تک اقتدار پر فائز رہنے کی مخالفت کی ہے۔

اصول کے تحت تینوں‌ بڑے جزائر کو باری باری اپنے علاقوں سے صدر کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ انجوان جزیرے میں غزالی عثمان کے سیاسی مخالفین کی اکثریت ہے اور وہ گذشتہ کئی مہینوں سے بڑے بڑے مظاہرے کر چکے ہیں۔ انہوں نے غزالی عثمان کے اقتدار پر مسلط رہنے کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں باغیوں کے ایک مسلح گروپ نے انجوان کے دارالحکومت موٹزاموڈو میں سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی شروع کر دی تھی۔

صدر غزالی عثمان کی انتخابی ہم کے نگران کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقے کی چوٹی پر کسی نے دھماکہ خیز مواد رکھ دیا تھا۔ جب صدرکا قافلہ اس علاقے سے گذرنے لگا تو وہ دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پتھر لڑھک گئے تاہم اس حملے میں صدر غزالی عثمان محفوظ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کی گاڑی مناسب وقت پررک گئی۔ صدر کے محافظوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے تو ایسے لگا کہ کسی نے میزائل حملہ کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں