الجزائری صدربوتفلیقہ کی سوئٹزر لینڈ میں دوہفتےزیر ِعلاج رہنے کے بعد وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

الجزائری حکومت کا ایک طیارہ دارالحکومت الجزائر کے نزدیک واقع فوجی ہوائی اڈےپر اتر گیا ہے ۔یہ طیارہ آج اتوار کو صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو سوئٹزر لینڈ سے واپس وطن لانے کے لیے جنیوا بھیجا گیا تھا۔

قبل ازیں جنیوا سے العربیہ کے نمایندے نے اطلاع دی تھی کہ الجزائری صدر جس اسپتال میں زیر علاج تھے ،اس کے نزدیک کاروں کا ایک قافلہ دیکھا گیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر صدر کا موٹر کیڈ تھا۔

الجزائر سے العربیہ کے ایک اور نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ بوفاریک فوجی ہوائی اڈے کے نزدیک الجزائری صدر کے محافظ دیکھے گئے ہیں اور دارالحکومت میں فوجی ہوائی اڈے سے صدارتی محل تک شاہراہ پر بھی سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔

الجزائری صدر گذشتہ ماہ معمول کے طبی معائنے کے لیے سوئٹزر لینڈ گئے تھے اور اس وقت سے جنیوا یونیورسٹی اسپتال میں زیرِ علاج تھے ۔ وہ 2013ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔تب وہ مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھےاور واپسی کے بعد گذشتہ برسوں کے دوران میں کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں۔گذشتہ صدارتی انتخابات میں ان کی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی تھی۔

ان کی حالیہ انتخابی مہم کے مینجر عبدالغنی زعلان نے آج ایک نشری بیان میں صدر بوتفلیقہ کے اس مؤقف کا ا عادہ کیا ہے کہ وہ اپریل میں پانچویں مرتبہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ایک سال کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرادیں گے جن میں ان کے ممکنہ جانشین کا انتخاب کیا جائے گا اور وہ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گے۔انھوں نے صدر کے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ نظام کی مکمل تبدیلی چاہتے ہیں۔

الجزائر میں 22 فروری سے عبدالعزیز بوتفلیقہ کے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طو ر امیدوار حصہ لینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد عبدالعزیز بوتفلیقہ کے اقتدار ، ملک میں جاری بے روزگاری ، مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ وہ صدر سے بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

الجزائر ی حکومت نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں مدت صدارت کے لیے امیدواری کے خلاف جاری اس احتجاجی تحریک کا دم توڑنے کے لیے جامعات میں قبل از وقت چھٹیوں کا حکم دے دیا ہے۔جامعات کے طلبہ صدر بوتفلیقہ کی حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔الجزائر کی اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے حکم کے مطابق جامعات میں موسم بہار کی آج اتوار سے 10 روز قبل ہی تعطیلات کی جارہی ہیں ۔ پہلے یہ چھٹیاں 20 مارچ کو ہونا تھیں۔

گذشتہ جمعہ کو الجزائر کے وسطی علاقے میں ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی تھی اور یہ شہر میں گذشتہ 28 سال کے بعد عوامی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں منقسم حزب اختلاف ، شہری گروپ اور طلبہ پیش پیش ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا کوئی لیڈر ہے اور نہ یہ منظم ہے مگر اب صدر بوتفلیقہ کے طویل عرصے سے اتحادی اور ان کی حکمراں جماعت کے ارکان بھی مظاہرین کی حمایت کرنے لگے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمراں اشرافیہ کی صفوں میں بھی دراڑیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں