روسی میزائلوں کی خریداری سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے باور کرایا ہے کہ اُن کے ملک کی جانب سے S-400 روسی میزائل نظام خریدنے کا امریکا کی سکیورٹی سے "کوئی تعلق نہیں" ہے۔ ایردوآن کا یہ بیان امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی جانب سے کی جانے والی تنبیہہ کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

ہفتے کے روز جنوبی مشرقی شہر دیار بکر میں اپنے خطاب کے دوران ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ "سب لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس معاملے کا نیٹو اتحاد کے ساتھ قطعا کوئی تعلق نہیں ہے ،،، اور نہ F-35 طیاروں کے پروگرام اور امریکا کی سکیورٹی سے کوئی تعلق ہے"۔

ایردوآن نے زور دے کر کہا کہ "بات S-400 میزائل نظام کی نہیں بلکہ ترکی کے آزادانہ اقدامات بالخصوص شام میں نقل و حرکت سے متعلق ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ترکی کی جانب سے (روسی) میزائل نظام کی خریداری کا مقصد بالکل واضح ہے اور اسی طرح وہ طریقہ بھی جس کے مطابق ہم اسے استعمال کریں گے"۔

اس سے قبل امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان چارلز سیمرز نے اعلان کیا تھا کہ اگر ترکی نے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق روس سے S-400 میزائل شکن دفاعی نظام خریدا تو انقرہ کو "خطرناک نتائج" کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سیمرز نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں ترکی کے حکام F-35 طیارے اور پیٹریاٹ میزائل حاصل نہیں کر سکیں گے۔

واشنگٹن نے دسمبر 2018 میں نیک نیتی کی دلیل کے طور پر ترکی کو میزائل شکن پیٹریاٹ نظام فروخت کرنے کی منظوری دی تھی تا کہ انقرہ کو روسی میزائلوں کی عدم خریداری پر قائل کیا جا سکے۔ تاہم ایردوآن نے بدھ کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرا دیا کہ روسی ہتھیاروں کے سمجھوتے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں