سوڈان: احتجاج کی پاداش میں 9 خواتین کو 20 کوڑوں اور ایک ماہ قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں Democratic Alliance of Lawyers (ڈی اے ایل) نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے پر ہفتے کے روز 9 خواتین کو 20 کوڑوں اور ایک ماہ جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صدر عمر البشیر کی اس ہدایت کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے حراست میں لی جانے والی تمام خواتین کو رہا کر دیا جائے۔

گزشتہ ماہ البشیر نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی اقدامات سامنے آئے جن میں ملک بھر میں ہنگامی عدالتوں کا قیام شامل ہے۔ دارالحکومت خرطوم میں موجود اسی طرح کی ایک عدالت نے مذکورہ نو خواتین کو مجرم ٹھہرایا ہے۔

ڈی اے ایل کے مطابق ہنگامی عدالتوں میں 800 سے زیادہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آ چکی ہے۔

سوڈان میں 19 دسمبر کے بعد سے قریبا روزانہ کی بنیاد پر صدر عمر البشیر کے خلاف احتجاج اور مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا آغاز قیمتوں میں اضافے اور سیالیت کی کمی پر احتجاج کے واسطے ہوا تھا تاہم پھر یہ تحریک عمر البشیر کے لیے 30 برس قبل فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک کی طاقت ور ترین چیلنج بن گئی۔

البشیر نے جمعے کے روز خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مظاہروں سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کی جانے والی تمام خواتین کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سوڈان میں پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے اتوار کے روز ام درمان میں نئے احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ عمر البشیر نے مرکزی حکومت کو برطرف کر کے ریاستوں کے گورنروں کی جگہ سکیورٹی عہدے داران کو مقرر کر دیا ہے۔ انہوں نے پولیس کے اختیارات میں توسیع کرنے کے ساتھ اجازت کے بغیر عوامی اجتماع ممنوع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں