افریقی دہشت گرد گروپ سے تعلق کے الزام میں چھےمصری، ایک تیونسی ملائشیا سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملائشیا میں پولیس نے چھے مصریوں اور ایک تیونسی کو شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد گروپ سے روابط کے الزام میں گرفتار کرکے ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔

ملائشیا کی قومی پولیس کے سربراہ محمد فوزی ہارون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک مصری اور ایک تیونسی شہری کے بارے میں انصار الشریعہ التونسیہ کے ارکان ہونے کا شُبہ ہے۔یہ گروپ شمالی افریقا میں فعال ہے اور اس کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ان میں سے دو افراد کو 2016ء میں ایک افریقی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔وہ گذشتہ سال اکتوبر میں جعلی پاسپورٹس پر ملائشیا میں داخل ہوئے تھے اور یہاں سے ایک تیسرے ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے لیے جانا چاہتے تھے۔

پانچ اور مصریوں اور دو ملائشی شہریوں کو گذشتہ ماہ ان دونوں مشتبہ دہشت گردوں کو خوراک ، پناہ ، فضائی ٹکٹ اور روزگار مہیا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فوزی ہارون کا کہنا تھا کہ حکام کو غیر ملکی دہشت گردوں کے ملائشیا میں داخلے پر تشویش لاحق ہے کیونکہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ دہشت گرد ملائشیا کو دوسرے ملکوں میں حملوں کے لیے ایک محفوط پناہ گاہ یا لاجسٹک اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

ان چھے مصریوں اور ایک تیونسی شہری کو 5 مارچ کو ملائشیا سے بے دخل کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کی ملک میں دوبار ہ داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں