حسن روحانی کی سرکاری دورے پر بغداد آمد،صدر برہم صالح سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے صدر حسن روحانی عراق کے سرکاری دورے پر سوموار کو دارالحکومت بغداد پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے عراقی صدر برہم صالح سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری سیاسی ، سفارتی اور تجارتی تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

وہ اس دورے سے امریکا کو یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس کی کڑی پابندیوں کے باوجود ایران کا خطے کے ممالک پر اثر ورسوخ برقرار ہے۔ امریکا عراق پر ایران سے تعلقات کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور وہ بالخصوص گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ علاحدگی کے فیصلے اور پھر نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے عراق پر اپنے پڑوسی ملک سے روابط کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

ایرانی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق صدر حسن روحانی عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی ،سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی اور دوسرے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے۔وہ ان سے دیگر امور کے علاوہ بجلی ، پانی اور گیس سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت تعلقات بڑھانے کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے۔

ان کے دورے سے قبل اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بغداد پہنچے تھے۔انھوں نے اپنے عراقی ہم منصب محمد علی الحکیم کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے خوش گوار ماحول میں تجارت اور صحت کےشعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے ایران اور ایرانی عوام کے خلاف عاید کردہ غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندیوں کو مسترد کرنے پر عراق کا شکریہ ادا کیا۔

امریکا نے عراق کو ایران سے بجلی اور قدرتی گیس کی خریداری کے لیے محدود استثنا دے رکھا ہے او ر وہ اس پر یہ زور دے رہا ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر توانائی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرے۔عراق اور ایران کے درمیان اس وقت سالانہ تجارت کا حجم 12 ارب ڈالرز ہے اور وہ دونوں اس کو 20 ارب ڈالرز تک بڑھانا چاہتے ہیں۔اس وقت گیس اور توانائی کی برآمدا ت کی وجہ سے دوطرفہ تجارت کے پلڑے کا جھکاؤ ایران کی طرف ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں