صدر بوتفلیقہ کے خلاف 1000 سے زیادہ ججوں کی بغاوت ،انتخابی ڈیوٹی دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف اب جج صاحبان نے بھی علمِ بغاوت بلند کردیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر علیل بوتفلیقہ پانچویں مدتِ صدارت کے لیے بدستور امیدوار رہتے ہیں تو وہ آیندہ ماہ صدارتی انتخابات کے دوران میں اپنے فرائض انجام نہیں دیں گے۔

انھوں نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک نئی تنظیم تشکیل دے رہے ہیں۔ جج صاحبان کے اس بیان سے قبل ملک کے فوجی جرنیلوں نے بھی صدر بوتفلیقہ کے خلاف سراپا احتجاج عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔الجزائر کے چیف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل قائد صلاح نے سرکاری ٹی وی سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ فوج اور عوام مستقبل کا ایک مشترکہ ویژن رکھتے ہیں لیکن انھوں نے ملک میں جاری بد امنی کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

الجزائری صدر سوئٹزر لینڈ میں کوئی دو ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد اتوار کو وطن لوٹے تھے۔ وہ گذشتہ ماہ معمول کے طبی معائنے کے لیے سوئٹزر لینڈ گئے تھے اور جنیوا یونیورسٹی اسپتال میں زیرِ علاج رتھے ۔ وہ 2013ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔تب وہ مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھےاور واپسی کے بعد گذشتہ برسوں کے دوران میں کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں۔ آخری مرتبہ وہ گذشتہ سال اپریل میں دارالحکومت الجزائر میں پہیّا کرسی (وہیل چئیر )پر دیکھے گئے تھے۔

بوتفلیقہ کی وطن واپسی سے قبل حکمراں جماعت نے تمام فریقوں پر زور دیا تھا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کریں اور قومی مصالحت کو فروغ دیں ۔ان کی انتخابی مہم کے مینجر عبدالغنی زعلان نے ایک بیان میں صدر بوتفلیقہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپریل میں پانچویں مرتبہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ایک سال کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرادیں گے جن میں ان کے ممکنہ جانشین کا انتخاب کیا جائے گا اور وہ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گے لیکن حزب اختلاف نے ان کی اس پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔

الجزائر میں 22 فروری سے عبدالعزیز بوتفلیقہ کے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طو ر امیدوار حصہ لینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد ملک کی فرانس سے آزادی کے بعد سے برسراقتدار سیاسی اشرافیہ ، ملک میں جاری بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ جمعہ کو الجزائر کے وسطی علاقے میں ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی تھی اور یہ شہر میں گذشتہ 28 سال کے بعد عوامی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں