.

عالمی کپ فٹبال کی میزبانی کے لیے قطر کی رشوت پر برطانوی اخبارات کا تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبارات نے اتوار کے روز اُن دستاویزات پر بھرپور طریقے سے روشنی ڈالی جوSunday Times اخبار کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ ان دستاویزات نے قطر کی جانب سے فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن (فیفا) کو درپردہ پیش کی جانے والی ایک ارب ڈالر کے قریب رشوت سے پردہ اٹھایا ہے۔ مذکورہ رشوت کو قطر کے 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی جیت لینے سے تین ہفتے قبل قطری میڈیا چینلوں کے ساتھ سمجھوتوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق قطر کے الجزیرہ چینل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹروں نے 2018 اور 2022 کے فٹبال عالمی کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے 40 کروڑ ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ اقدام دونوں ایونٹس کے میزبان ملکوں کے انتخاب سے قبل اٹھایا گیا۔

مذکورہ سمجھوتوں میں 10 کروڑ ڈالر کی ایک پیش کش بھی شامل ہے جو ووٹنگ میں قطر کے کامیاب ہونے کی صورت میں صرف فیفا کے لیے مخصوص اکاؤنٹ میں ادا کی جائے گی۔ یہ امر فیفا کے تمام قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے جس نے بہت سے سوالیہ نشان بھی لگا دیے ہیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق قطر نے ٹی وی کے نشریاتی حقوق کے واسطے 2013 میں 48 کروڑ ڈالر کے عوض ایک دوسرا معاہدہ کیا۔ یہ اب فیفا کے نام پر دھبہ لگانے والی رشوت کے کیس میں تحقیقات کا حصہ بن چکا ہے۔

تمام انکشافات سے برطانوی اخبار نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قطر نے 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی واقعتا رشوت کے ذریعے خریدی ہے جو واضح طور پر فیفا کے نظام کی دھجیاں اڑا دینے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جس وقت قطر 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا تھا اس دوران دوحہ کی جانب سے فیفا کو براہ راست تقریبا ایک ارب ڈالر کی پیش کش کی گئی۔ قطر امکانات اور آبادی کی کمی کے سبب اس میگا ایونٹ کی میزبانی کا حق دار نہیں تھا۔ فیفا نے حیرت انگیز طور پر قطر جیسے چھوٹے ملک کو عالمی کپ کی میزبانی دے دی جب کہ اس پر جاپان اور جنوبی کوریا والے قواعد بھی لاگو نہیں کیے گئے جنہوں نے مشترکہ طور پر عالمی کپ کے انتظامی امور کو تقسیم کیا تھا۔

افشا ہونے والے نئی دستاویزات 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی سے متعلق قطر کے اسکینڈلوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔