.

الجزائر کے بزرگ سفارت کارالاخضرالابراہیمی قومی کانفرنس کے سربراہ ہوں گے

صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی تجویز کردہ کانفرنس ملک میں آئینی اور سیاسی اصلاحات کے لیے سفارشات مرتب کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے طویل سفارتی تجربے کے حامل بزرگ رہ نما الاخضر الابراہیمی ملک کے سیاسی مستقبل کا نقشہ راہ وضع کرنے کے لیے تشکیل پانے والی مجوزہ کانفرنس کے سربراہ ہوں گے۔ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اس کانفرنس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے اور یہ ملک میں آئینی ،قانونی اور سیاسی اصلاحات کے لیے سفارشات مرتب کرے گی اور ان کی روشنی میں نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔

صدر بوتفلیقہ نے سوموار کو ملک میں 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کردیے تھے اور خود بھی پانچویں مدتِ صدارت کے لیے بہ طور امیدوار حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے یہ فیصلہ اپنے خلاف گذشتہ تین ہفتے سے جاری عوامی احتجاجی مظاہروں کے ردعمل میں کیا تھا۔

الجزائری حکومت کے ذرائع کے مطابق اس قومی کانفرنس میں مظاہرین کے نمایندے ، الجزائر کی 1954ء سے 1962ء تک فرانس سے آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والے قائدین کے نمایندے شامل ہوں گے۔ اس کا سربراہ 85 سالہ بزرگ سفارت کار الاخضر الابراہیمی کو بنایا گیا ہے۔

وہ متنوع اور وسیع تر سفارتی پس منظر کے حامل ہیں۔ دنیا بھر اور بالخصوص مسلم ممالک میں تنازعات میں وہ اقوام متحدہ کے خصوصی امن ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ 1991ء سے 1993ء تک الجزائر کے وزیر خارجہ رہے تھے ۔انھوں نے گذشتہ چار عشروں کے دوران میں افریقی ممالک ہیٹی، نائیجیریا، کیمرون اور سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔

الاخضر الابراہیمی 1934ء میں پیدا ہوئے تھے ۔انھوں نے 1956ء میں فرانس سے آزادی کی جنگ میں بھرپور حصہ لیا تھا اور اس کے بعد پانچ سال تک جنوب مشرقی ایشیا میں تحریکِ آزادی میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی نیشنل لبریشن فرنٹ کی نمایندگی کی تھی۔الجزائر کی فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد انھیں مصر میں ملک کا سفیر اور عرب لیگ میں مستقل مندوب مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 1971ء سے 1979ء تک برطانیہ میں الجزائر کے سفیر رہے تھے۔انھوں نے الجزائر اور فرانس میں تعلیم حاصل کی تھی اور قانون اور سیاسیات میں ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ عربی کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی روانی سے بول سکتے ہیں۔

انھیں 2001 ء میں افغانستان پر امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کے حملے کے بعد اقوام متحده کا خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔وہ اس سے قبل طالبان کے دور حکومت میں بھی افغانستان میں عالمی ادارے کے ایلچی رہے تھے۔انھوں نے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنگ زدہ ملک کے نئے آئین کی تدوین وتیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے دو سال کے بعد مارچ 2003ء میں عراق پر امریکا کی قیادت میں فوجوں کی چڑھائی کے بعد انھیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا اور بعد از صدام حسین 2004ء میں عراق میں ایک عبوری حکومت کے قیام میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ انھوں نے 2004ء میں عراق میں اپنےقیام کے دوران میں کہا تھا کہ ’’اسرائیل کی پالیسیاں خطے میں سب سے بڑا زہر ہیں‘‘۔اسرائیل نے اس پر کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایک سینیر عہدے دار کا یہ تبصرہ نامناسب ہے۔

الاخضر الابراہیمی جنوبی افریقا میں بھی اقوام متحدہ کے مشن کے نگران رہے تھے۔اس ملک میں 1994ء میں مشمولہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے میں انھوں نے بھرپور سفارتی کردار ادا کیا تھا۔ان انتخابات کے نتیجے میں نیلسن منڈیلا برسراقتدار آئے تھے اور جنوبی افریقا سے نسل پرستی کا خاتمہ ہوا تھا۔الابراہیمی 1994ء سے 1996ء تک ہیٹی میں اقوام متحدہ کے سینیر ایلچی رہے تھے۔انھوں نے 1989ء میں لبنان میں گذشتہ پندرہ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

الاخضر الابراہیمی اقوام متحدہ کے محض امن ایلچی ہی کا کردار نہیں ادا کرتے رہے تھے اور انھوں نے عالمی ادارے کی پالیسیوں کی من وعن تائید نہیں کی تھی بلکہ انھیں جہاں بھی سقم نظر آئے ،ان کی نشان دہی کی اور جہاں اقوام متحدہ بہ طور ادارہ ناکام ہوئی، اس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔انھوں نے 1994 ءمیں افریقی ملک روانڈا میں قتل عام رکوانے اور 1995ء میں سربرنیکا، بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کےو اقعات کو رکوانے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس میں اقوام متحد ہ کے امن مشنوں میں اہم تبدیلیوں کے لیے سفارشات پیش کی تھیں۔

الاخضر الابراہیمی عالمی رہ نماؤں پر مشتمل گروپ ’’ دی ایلڈرز‘‘ کے رکن بھی رہے ہیں۔یہ گروپ نیلسن منڈیلا نے 2007ء میں قائم کیا تھا اور اس کا مقصد دنیا میں امن کارروائیوں اور انسانی حقوق کو فروغ دینا تھا۔انھوں نے اس حثییت میں گروپ کی جانب سے شام ، غزہ ،مصر اور اردن کا دورہ کیا تھا۔

الاخضر ابراہیمی کو 2012ء میں اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جگہ شام کے لیے خصوصی عالمی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔تب انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل مشن ہوگا۔وہ اپنی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کے حل کے لیے اسد حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہے تھے۔تاہم فریقین کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے دو ادوار میں تنازعے کے حل لیے کوئی سجھوتا نہیں طے پاسکا تھا۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے بزرگ سفارت کار کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے رویے سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور دوسری جانب وہ عرب لیگ میں شامی حزب اختلاف کی حمایت اور اس کو نشست دینے سے دلبرداشتہ ہوئے تھے۔اس اقدام سے ان کی شامی بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کو سخت دھچکا لگا تھا اور ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوئی تھی کیونکہ وہ اقوام متحدہ کے علاوہ عرب لیگ کے بھی شام کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

شامی بحران کے حوالے سے ان کا یہ موقف رہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ۔انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب شامیوں کے درمیان بہت سے پیچیدہ مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے تنازع کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔ وہ مئی 2014ء میں شام کے لیے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش گئے تھے۔تب سے وہ ایک طرح سے ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اب انھیں ملک کے مستقبل کا سیاسی نقشہ راہ وضع کرنے کے لیے مجوزہ کانفرنس کی قیادت کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔