.

’’النہضہ‘‘ کا خفیہ ونگ ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: تیونسی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی کا کہنا ہے کہ النہضہ موومنٹ کے زیر انتظام قتل کی خفیہ کارروائیوں کا ونگ تیونس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کی کارروائی میں مداخلت کے بغیر اس معاملے کے حوالے سے ایک موقف اپنائے۔

پیر کے روز تیونس کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران صدر السبسی نے النہضہ موومنٹ کے خفیہ ونگ کے معاملے پر اپنے شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ میڈیا میں پوری طاقت کے ساتھ پیش ہونے کے بعد تیونس کی رائے عامہ میں زیر بحث آ گیا ہے۔ السبسی کا کہنا تھا کہ " ہمیں اس نقطے پر رکنا نہیں چاہیے۔ یہ قومی سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ ہمیں اس معاملے پر نظر کر کے ایک موقف اپنانا چاہیے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم عدلیہ کے متوازی ہیں"۔

النہضہ موومنٹ کے خفیہ ادارے کا معاملہ گزشتہ برس اکتوبر میں اپوزیشن سیاسی شخصیات شکری بلعید اور محمد البراہمی کی دفاعی کمیٹی کے انکشاف پر سامنے آیا۔ کمیٹی نے بتایا کہ ایسی دستاویزات اور شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ النہضہ موومنٹ ریاست کے متوازی ایک خفیہ سکیورٹی ونگ رکھتی ہے۔ یہ ونگ 2013 میں بلعید اور البراہمی کے قتل میں ملوث ہونے کے علاوہ جاسوسی، ریاستی اداروں میں مداخلت اور النہضہ موومنٹ کے حریفوں کے تعاقب میں بھی پیش پیش رہا ہے۔