.

سخت گیر ایرانی عالم ابراہیم رئیسی سات دن میں ایک اور اہم عہدے پرفائز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سخت گیر عالم ابراہیم رئیسی کو شورائے نگہبان کا نائب سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ایران کا یہ طاقتور ادارہ سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔

اس سے ایک ہفتہ قبل ہی انھیں ایرانی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔اس طرح وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین ہوسکتے ہیں۔

ابراہیم رئیسی ایران کے سابق شکست خوردہ امیدوار ہیں۔انھوں نے صدر حسن روحانی کے خلاف انتخاب لڑا تھا مگر وہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود ناکام رہے تھے ۔ ان کے سپاہِ پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔انھوں نے 1988ء میں سیاسی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے عمل کی نگرانی کی تھی ۔ تب وہ ایرانی دارالحکومت تہران میں ڈپٹی پراسیکیوٹر تھے۔

وہ 88 ارکان پر مشتمل شورائے نگہبان کے نائب سربراہ کی حیثیت سے ایران کے آیندہ سپریم لیڈر کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا عہدہ بھی ملک میں طاقتور حیثیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے قانونی نظام کو سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کی عدلیہ آزاد ہے اور اس کے فیصلے اور احکامات سیاسی مفادات یا کسی دباؤ کے تابع نہیں ہوتے ہیں۔