.

قطر کا کوئی ایک پڑوسی ملک میزبانی کرے،توعالمی کپ 2022ء میں 48 ٹیموں کی شرکت ممکن!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن ( فیفا) نے اپنی ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر قطر کے ہمسایہ ممالک میں صرف ایک ہی 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ ٹورنا منٹ کے بعض میچوں کی میزبانی کرے تو اس میں 48 ٹیموں کی شرکت ممکن ہے۔

فٹ بال عالمی کپ کے قابلِ عمل ہونے سے متعلق اس مطالعے میں کہا گیا ہے کہ اگر ٹورنا منٹ کے طرز اور طریق کو تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کے بہت کم قانونی مضمرات یا خطرات ہوں گے اور 40 کروڑ ڈالرز کی اضافی آمدن بھی ہوسکے گی۔

81 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں قطر میں ہونے والے عالمی کپ ٹورنا منٹ میں مزید 16 ٹیموں کی شمولیت سے پیدا ہونے والے ممکنہ سیاسی ، لاجسٹیکل اور قانونی امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس رپورٹ کو فیفا کی گورننگ باڈی نے تیار کیا ہے ،اس لیے تنظیم کی کونسل میامی (امریکا) میں آیندہ جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں اس سے اتفاق کرسکتی ہے۔تاہم اس ضمن میں حتمی فیصلہ آیندہ ماہ جون میں قطر کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس مطالعے میں نشان دہی کی گئی ہے کہ قطر کے پڑوسی ممالک بحرین ، کویت ، اومان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اضافی ٹیموں کے میچ منعقد کرائے جاسکتے ہیں ۔ تاہم اس ضمن میں حتمی منظوری قطر ہی دے سکتا ہے کہ وہ ان میں سے کس ملک کو اپنے ساتھ شریک میزبان بنانا چاہتا ہے۔

یہ تمام خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک ہیں۔ تاہم بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جون 2017ء سے قطر کے ساتھ سفارتی ، سیاسی اور معاشی تعلقات منقطع کررکھے ہیں اور اس مطالعے میں فیفا کی جانب سے یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ان ممالک کے درمیان جاری سیاسی بحران سے ان تینوں کی عالمی کپ کی میزبانی کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے گذشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ فیفا کویت اور سلطنت آف اومان کو قطر کے ساتھ عالمی کپ میں میزبان بنانے پر غور کررہا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک خلیج کے اس سفارتی بحران میں غیر جانبدار ہیں اور قطر بھی انھیں ٹورنا منٹ کے بعض میچو ں کی میزبانی کے لیے منتخب کرنے پر معترض نہیں ہوگا ۔

قطر میں 30 میل کے دائر ے میں واقع آٹھ میدانوں میں عالمی کپ ٹورنا منٹ کے 64 میچ کھیلے جائیں گے اور اس میں 32 ممالک کی قومی ٹیمیں شرکت کریں گی ۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیموں کی شمولیت کی صورت میں خطے میں ایک یا ایک سے زیادہ ممالک میں مزید دو سے چار تک کھیل کے میدان درکار ہوں گے ۔اگر کسی اور ملک کا عالمی کپ کی میزبانی میں شراکت کے لیے انتخاب کیا جاتا ہے تو اس کو انسانی حقوق سمیت بعض یقین دہانیاں کرانا ہوں گی۔

واضح رہے کہ قطر کو 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی ملنے کے بعد سے غیر ملکی تارکین وطن کے انسانی حقوق کی پامالیوں پر تنقید کا سامنا ہے ۔ اس پر یہ بھی الزاما ت عاید کیے جاتے ہیں کہ اس نے فیفا کی گورننگ باڈی کے ارکان پر دولت نچھاور کر کے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی حاصل کی تھی اور اس کے بعد کھیل کے میدانوں کی تعمیر میں تارکِ وطن مزدوروں کے انسانی حقوق کو بُری طرح پامال کیا ہے اور ان سے شدید گر م موسم میں کام لیا جاتا رہا ہے۔

فیفا کے سابق صدر سیپ بلیٹر نے چند ماہ قبل ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ عالمی تنظیم کی انتظامی کمیٹی کے ارکان نے قطر کو 2022ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی دیتے وقت اس مشورے کو نظرانداز کردیا تھا کہ وہ عالمی کپ کی میزبانی کی صلاحیت کا حامل نہیں۔انھوں نے یہ الزام بھی عاید کیا تھا کہ قطر کی میزبانی مختلف قواعد وضوابط کو توڑنے اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ تھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے فرانسیسی رکن میشیل پلاٹینی پر اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

فیفا کے سابق صدر نے اپنی کتاب ’’ میرا سچ‘‘ میں لکھا تھا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان قطر کو فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی دینے کا ذہن بنا چکے تھے،اس لیے ان میں سے کسی نے بھی میزبانی کے امیدوار دوسرے ممالک کے بارے میں رپورٹ کو در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’’ اگر ہم نے اس رپورٹ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا ہوتا تو قطر فٹ بال عالمی کپ ٹورنا منٹ کا میزبان نہیں بنتا‘‘۔ان کے انکشاف کے مطابق پلاٹینی نے ان سے گفتگو میں یہ کہا تھا کہ انھوں نے 2010ء میں سابق فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ایک ظہرانے میں شرکت کے بعد اپنا ذہن تبدیل کیا تھا اور ان پر قطر کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

سیپ بلیٹر لکھتے ہیں کہ ’’ میں یہ بات نہیں جانتا ہوں اور جاننا چاہتا بھی نہیں ہوں کہ قطر کو عالمی کپ کی میزبانی دینے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا تھا،اس میں کوئی باہمی ربط وتعلق تھا‘‘۔ البتہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’قطر نے اس کے بعدفرانس سے طیاروں کی خریداری کے ایک سودے اور پیرس کے سینٹ جرمین فٹ بال کلب کی خریداری پر اربوں یورو صرف کردیے تھے‘‘۔