.

گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈالوں گا : امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں گے تا کہ اسرائیل کے زیر انتظام مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے کو تسلیم کر لیا جائے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران شام سے گولان کا علاقہ چھین لیا تھا۔ اسرائیل نے 1981 میں عملی طور پر گولان کو ضم کرنے کا اعلان کر دیا تاہم اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

گراہم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں ابھی یا مستقبل میں ایک لمحے کو بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اسرائیلی ریاست گولان سے دست بردار ہو"۔

امریکی سینیٹر نے باور کرایا کہ وہ تزویراتی محل وقوع کے حامل علاقے گولان کو اسرائیل کا ایک حصہ تسلیم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے ساتھ بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر اسرائیل کو درپیش خطرات اور دھمکیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ اسرائیل اس علاقے سے دست بردار ہو"۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ گولان کا علاقہ اس کی سرزمین کے دفاع کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ ٹرمپ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈال چکا ہے کہ گولان پر اسرائیلی سیادت کو تسلیم کیا جائے۔

سال 2017 میں ٹرمپ نے کئی عشروں سے جاری امریکی پالیسی سے یُو ٹرن لیتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا۔ اس اقدام نے فلسطینیوں کو چراغ پا کر دیا جو مشرقی بیت المقدس کو مستقبل میں مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں اپنی ریاست کا دارالحکومت دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

البتہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بیت المقدس میں اسرائیلی سیادت کی درست سرحدوں کے حوالے سے کوئی موقف نہیں رکھتے۔