.

برطانوی دارالعوام نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم مے کی بریگزٹ ڈیل مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی دارالعوام کے ارکان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم تھریز امے کی یورپی یونین سے طلاق کی ڈیل ( بریگزٹ) کثرت رائے سے مسترد کردی ہے جس کے بعد ملک میں جاری سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے ۔اب آیندہ سولہ روز میں پارلیمان بریگزٹ ڈیل کی حمایت نہ کا فیصلہ کرے گی یا ملک کی یورپی یونین سے 29 مارچ کو علاحدگی میں مزید تاخیر چاہے گی۔

وزیراعظم تھریزا مے نے یورپی یونین سے حالیہ دنوں میں مذاکرات کے بعد پارلیمان میں بریگزٹ کا ایک ترمیمی بریگزٹ رائے شماری کے لیے پیش کیا تھا اور انھوں نے ارکان سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کی حمایت کریں لیکن 391 ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے اور صرف 242 ارکان نے اس کی حمایت کی ہے ۔

یوں برطانوی وزیراعظم کے یورپی یونین کی قیادت سے سوموار کو مذاکرات کا کوئی اچھا اور مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے جبکہ بریگزٹ ڈیل کے حامی ان کی حاصل کردہ رعایتوں سے مطمئن نہیں ہوئے ہیں۔اب اگر 29 مارچ کو برطانیہ اور یورپی یونین میں طلاق نہیں ہوتی ہے تو اس کا ایک نتیجہ قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں یا پھر ایک نیا ریفرینڈم ہوسکتا ہے اور اس سے کچھ بھی نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے کیونکہ برطانوی ووٹر ملک کے یورپی یونین میں برقرار رہنے کے حق میں بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔

اب بدھ کو پارلیمان میں برطانیہ کے یورپی یونین سے کسی سمجھوتے کے بغیر انخلا سے متعلق قرار داد پر رائے شماری ہوگی اور اگر اس کو منظور کر لیا جاتا ہے تو اس پر کاروباری حلقے اور تجارتی لیڈروں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مارکیٹوں میں افراتفری کی صورت حال پیدا ہوجائے گی اور اس کے نتیجے میں برطانیہ میں خوراک اور ادویہ کی بھی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

دریں اثناء یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے ترجمان نے کہا ہے کہ’’ برطانیہ بریگزٹ میں تاخیر کے درخواست کے ساتھ ’’ٹھوس وجہ جواز‘‘ بھی پیش کرنا ہوگی‘‘۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں 2016ء میں یورپی یونین کو خیرباد کہنے کے لیے ایک ریفرینڈم ہوا تھا اور اس میں 48 کے مقابلے میں 52 فیصد ووٹروں نے بریگزٹ یعنی برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے بعد برطانوی حکومت یورپی تنظیم سے علاحدگی کے معاہدے کو منظور نہیں کراسکی ہے۔

برطانوی وزیراعظم تھریز امے کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدے کی منظوری نہیں دی جاتی ہے تو بریگزٹ کا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔لیکن بریگزٹ نواز بہت سے ارکان کا کہنا ہے کہ اس نئے ترمیمی سمجھوتے سے برطانیہ بدستور یورپی یونین سے جڑا رہے گا ،اس لیے وہ اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔

تھریزا مے کے یورپی یونین سے مذاکرات کے نتیجے میں طے شدہ سمجھوتے پر برطانوی دارالعوام کے ارکان نے سخت اعتراضات کیے ہیں اور وہ اس میں مزید ترمیم چاہتے ہیں مگر اس کے باوجود مے کا کہنا ہے کہ ’’ وہ 29 مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل ترتیب وار علاحدگی کا عمل مکمل کر لیں گی ۔البتہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا‘‘۔

برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم تھریزا مے کو یورپی یونین سے آئرلینڈ کے ساتھ سرحد کے انتظامات میں تبدیلی کے لیے ازسرنو مذاکرات کی ہدایت کی تھی۔ جنور ی میں دارالعوام نے کثرت رائے سے تھریزا مے کی بریگزٹ ڈیل کو مسترد کردیا تھا اور برطانیہ کی جدید تاریخ میں کسی حکومت کی پارلیمان میں یہ سب سے بڑی شکست تھی۔