.

ترکی میں کسی کے لیے کوئی جائے امان نہیں:جرمن سیاست دان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے ایک سینیر سیاست دان اور 'گرین پارٹی' کے سابق صدر نے ترکی کی حکومت کو 'استبدادی' نظام قراردیتے ہوئے انقرہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔ چاہے وہ جرمنی شہری یا کسی دوسرے ملک کا باشندہ ہو، اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق جرمن سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ شیم ازدیمیر نے ان خیالات کا اظہار انقرہ سے جرمن صحافیوں کی بے دخلی کے رد عمل میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ کے آخر میں ترکی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات طیب ایردوآن کو کوئی فایدہ نہیں پہنچائیں گے۔ انہوں‌نے کہا کہ ترکی کے استبدادی نظام کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سے آواز بلند کی جانی چاہیے۔

ادھر ترک اخبار'جمہوریات' کے سابق چیف ایڈیٹر نے غیرملکی صحافیوں کی بے دخلی پرحکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یا تو حکومت کو تمام صحافیوں پر اعتماد کرنا ہوگا یا ہم سب ملک چھوڑ دیں گے۔

گذشتہ ہفتے جرمنی نے اپنے شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت کی تھی۔ جرمن حکام کو خدشہ ہے کہ ترک پولیس اس کے شہریوں کو آزادی اظہار رائے کی پاداش میں گرفتار کرسکتی ہے۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ ترکی میں رواداری نام کی کوئی چیز نہیں۔

گذشتہ ہفتے کے روز جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ ترکی کی حکونت نے جرمنی اور بعض دوسرے یورپی ملکوں کے صحافیوں کوانقرہ میں داخلے کی اجازت دینےسے انکار کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں دو سال قبل سے ظالمانہ گرفتاریاں جاری ہیں۔