.

یواے ای کا یورپی یونین کی’’ ٹیکس بچاؤ بلیک لسٹ‘‘ میں نام شامل کرنے پر اظہارِ افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے یورپی یونین کی ’’ ٹیکس بچاؤ بلیک لسٹ‘‘ میں نام شامل کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔یو اے ای کے بنکوں کی فیڈریشن کے چئیرمین عبدالعزیز الغریر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ یورپی یونین اور یو اے ای کے درمیان ’’ عدمِ ابلاغ‘‘ کا نتیجہ ہے۔

انھو ں نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیں ان ( یورپی یونین) سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔میں اس کی وجوہ کو سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یو اے ای ایک ’عالمی شہری ‘کا کردار ادا کرنا چاہے گا اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا‘‘۔

یورپی یونین کی حکومتوں نے منگل کے روز ٹیکس بچانے اور ٹیکس چوروں کے لیے جنت ارضی کا کردار ادا کرنےوالے ممالک کی ایک وسیع بلیک لسٹ کی منظوری دی تھی ۔اس میں متحدہ عرب امارات ، برطانیہ اور نیدر لینڈز کے سمندر پار علاقوں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔اب فہرست میں پہلے سے تین گنا نام شامل ہوگئے ہیں۔

یورپی یونین نے گذشتہ سال ٹیکس سے متعلق امور میں تعاون نہ کرنے والے ممالک اور علاقوں کے نام بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور تنظیم کے معیارات کے مطابق ٹیکس اصلاحات کا وعدہ کرنے والے ممالک کی نگرانی کا فیصلہ کیا تھا۔

حکام کے مطابق اس نئی فہرست میں پندرہ مزید علاقے شامل کیے گئے ہیں۔ان میں یواے ای ، اومان ، برطانیہ کا برمودا اور کیربیئن اور بحرالکاہل کے جزائر شامل ہیں۔ یورپی یونین کی اس فہرست میں ان ممالک کے نام شامل کیے جاتے ہیں جن کے ٹیکس قوانین میں ایسے سقم پائے جاتے ہیں جن سے ٹیکسوں سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر وہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کا وعدہ کریں تو ان کے نام فہرست سے خارج کردیے جاتے ہیں۔

دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 62 ممالک اور علاقوں نے یورپی یونین کے طے شدہ ٹیکس معیارات کی پاسداری کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کو آیندہ دسمبر یا فروری تک اپنے ٹیکس قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ جن ممالک سے ٹیکس اصلاحات کا تقاضا کیا گیا ہے ،ان میں تنظیم کے 28 ارکان شامل نہیں ہیں ۔تاہم ٹیکس اصلاحات کے لیے مہم چلانے والوں اور یورپی پارلیمان کے ارکان نے تنظیم کے بعض رکن ممالک پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ٹیکس چوری کے حوالے سے جنتِ ارضی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

یورپی یونین کی پارلیمان کی مالیاتی جرائم سے متعلق کمیٹی نے گذشتہ ہفتے منظور کردہ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’لکسمبرگ ، بیلجئیم ، قبرص ، ہنگری ، آئیرلینڈ ، مالٹا اور نیدر لینڈز ٹیکس چوروں کی جنتِ ارضی کے بعض خصائص کے حامل ہیں اور وہ جارحانہ ٹیکس منصوبہ بندی کے لیے سہولتیں مہیا کرتے ہیں‘‘۔