.

یوسف القرضاوی کے فتوے فٹ بال ورلڈ کپ کو متاثرکرسکتے ہیں: امریکی اخبار

کفار کےقتل کے جواز پر مبنی فتووں سے غیرملکی ٹیموں اور شائقین میں خوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سخت گیر اسلامی مبلغ علامہ یوسف القرضاوی کے متشددانہ فتوے 2022ء کے دوحہ میں ہونے والے بین الاقوامی فٹ بال چیمپئین شپ کو اس شائقین کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اخبار'دا ڈیلی کولر' کے مطابق علامہ یوسف القرضاوی کے ایسے کئی فتاویٰ ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انہوں‌ نے غیرمسلموں یا "کفار" کو کسی بھی حال میں واجب القتل قراردے رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی اخبار نے دوحہ کی میزبانی میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد، اس میں آنے والی غیر ملکی فٹ بال ٹیموں اور فٹ بال کے شائقین کو علامہ یوسف القرضاوی کے فتووں کی وجہ سے سیکیورٹی کے مسائل کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔ بہت سے ممالک اپنی ٹیموں اور شہریوں کو دوحہ میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں بھیجنے سے محتاط ہوں گے۔

خیال رہے کہ علامہ یوسف القرضاوی کومصر سمیت بعض دوسرے عرب ممالک نے 'دہشت گرد' قرار دے رکھا ہے اور ان پر عرب ممالک کی حکومتوں کے خلاف فتووں کے ذریعے نفرت کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ یوسف القرضاوی عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی تحریک اخوان المسلمون کے نظریات کے علم بردار سمجھے جاتے ہیں۔

سنہ 2009ء میں قطر سے نشریات پیش کرنے والے الجزیرہ ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں علامہ یوسف القرضاوی نے یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ انہوں‌نے کہا تھا کہ یہودیوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے ہردور میں اللہ تعالیٰ کسی ہٹلر کو بھیج دیتا ہے۔ جرمنی کے نازی لیڈر ایڈولف ھٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے بعد اب مومونوں کے ذریعے ان کی بیخ کنی کرے گا۔

اسی سال علامہ یوسف القرضاوی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کفار سے لڑنے کو تیار ہیں۔ امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ علامہ یوسف القرضاوی کی 120 کتب میں قطری نظام حکومت کی حمایت اور غیرمسلموں کے خلاف اشتعال انگیزی پرمبنی ہیں۔ ان کی بعض کتب امریکی شہر بوسٹن میں بھی پہنچائی گئیں، جہاں سنہ 2018ء میں ایک شخص نے دہشت گردانہ حملہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ حملہ بوسٹن کی اس مسجد میں آتا جاتا تھا جہاں علامہ القرضاوی کی کتابیں موجود تھیں۔

قطرکی میزبانی میں 4 سال بعد فٹ ورلڈ کپ ہونے جا رہا ہے جس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ قطر پر فٹ بال کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے 'فیفا' کو ایک ارب ڈالر کی رشوت دینے کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔