افغانستان: فضائی حملے میں القاعدہ کے ارکان سمیت 31 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے جنوب مشرقی صوبہ غزنی میں فضائی حملے میں اکتیس مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔مہلوکین میں القاعدہ کے متعدد جنگجو بھی شامل ہیں۔

افغانستان کی وزارت ِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزنی میں جنگجوؤں کے قافلے کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا گیا ہے۔وہاں القاعدہ کا ایک سہولت کار قاری عارف ان اکتیس دہشت گردوں کو کاروں کے ذریعے کہیں منتقل کررہا تھا۔ مہلوکین میں نو خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ تمام جنگجو مشرقِ اوسط کے جہادی گروپ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ صوبہ غزنی کے گورنر کے ترجمان محمد عارف نوری نے ایک بیان میں کہا کہ قافلے میں طالبان سے وابستہ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شامل تھے۔

وزارت ِ دفاع نے یہ تو نہیں بتایا کہ یہ فضائی حملہ کس نے کیا ہے لیکن جنگ زدہ میں صرف افغان اور امریکی فورسز ہی فضائی حملے کررہی ہیں۔گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے یہ فضائی حملہ کیا ہے لیکن فوری طور پر ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

القاعدہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان میں اب بھی فعال ہے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری سمیت بعض قائدین ان دونوں ممالک ہی میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔افغان اور امریکی حکام اب بھی القاعدہ کو ایک خطرہ سمجھتے ہیں لیکن اس نے گذشتہ برسوں کے دوران میں کوئی بڑا حملہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں