برازیل : اسکول میں اجتماعی قتل و غارت کے واقعے کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برازیل میں ساؤ پاؤلو سے 51 کلو میٹر دور واقع شہر سوزانو کے ایک اسکول میں بدھ کی صبح کھیلی جانے والی خون کی ہولی میں پانچ طلبہ سمیت 7 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ایک مسلح نوجوان اور اس کے ساتھ کی جانب سے کی جانے والی اندھادھند فائرنگ سے مارے جانے والے طلبہ کی عمر 15 سے 17 برس کے درمیان ہے۔ علاوہ ازیں دو خواتین ٹیچر بھی واقعے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں جن کی عمریں 38 اور 59 برس ہے۔ بعد ازاں دونوں حملہ آوروں نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔ واقعے میں کم از کم 17 افراد زخمی بھی ہوئے جن کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔

سوزانو میںRaul Brasil پرائمری اسکول میں پیش آنے والے اس اندوہ ناک واقعے کی وڈیو بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس کے مطابق صبح کے وقت بریک کے دوران دو مسلح نوجوانوں نے اسکول پر دھاوا بول دیا۔ ان کے پاس پستول، آتش گیر شیشے، کلہاڑی اور غالبا بم بھی تھا۔ اس حوالے سےGlobo ٹیلی وژن کی ویب سائٹ کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک غالبا اسکول کا سابق طالب علم تھا۔ اسکول کے طلبہ کی مجموعی تعداد کم از کم ایک ہزار ہے اور ان کی عمریں 11 سے 18 برس تک ہیں۔

واقعے کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے۔

واقعے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس پر عوام کی بڑی تعداد بالخصوص طلبہ کے گھر والے اور عزیز و اقارب اسکول کی طرف دوڑ پڑے۔ ادھر پولیس نے واقعے کے بعد جائے حادثہ کا سکیورٹی گھیراؤ کر لیا۔ بعد ازاں ریاست ساؤ پاؤلو کے گورنر نے اسکول کا دورہ کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ گورنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ریاست میں تین روز کے سوگ کا اعلان کیا۔

اسکول میں قتل و غارت کے مرتکب دو افراد میں سے ایک 17 سالہGuilherme Monteiro ہے۔ یہ نوجوان "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی جانب سے پیش کی جانے والی وڈیو میں طلبہ پر براہ راست فائرنگ کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ دوسرے حملہ آور کا نامLuiz Henrique de Castro ہے اور اس کی عمر 25 برس ہے۔ کیسٹرو فیس بک پر اپنے فالوورز میں بہت مشہور ہے۔ اس نے اپنے اکاؤنٹ کے مرکزی لوگو میں یہ عبارت لکھ رکھی ہے "مجھے ہتھیار سے محبت ہے مگر میں کوئی غنڈہ نہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں